صحت کا راز، پچھلے 25 سال سے روزانہ دو کلو گالیاں کھاتا ہوں، بھارتی وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
نریندر مودی نے کہا کہ کانگریس عوام کو مسئلہ سمجھتی ہے کیونکہ اندراگاندھی نے ایک دفعہ ایران کے دورے میں تقریر کرتے ہوئے اپنے والد نہرو جی سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی نے میرے والد سے پوچھا کہ ان کو کتنے مسائل کا سامنا ہے تو انہوں نے جواب دیا 35 کروڑ ہیں اور اس وقت بھارت کی آبادی 35 کروڑ تھی۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے احتجاج اور واک آؤٹ کے دوران تقریر میں کہا کہ مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ کی صحت کا راز کیا ہے تو میں نے کہا کہ روزانہ دو کلو گالیاں کھاتا ہوں جو پچھلے 25 سال سے مجھے مسلسل دی جا رہی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے راجیا سبھا میں اپوزیشن کی نعرے بازی اور واک آؤٹ کے دوران تقریر کی اور طنزیہ انداز میں بتایا کہ 2002 سے اب تک گزشتہ 25 سال سے ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گیا جس میں ان لوگوں نے مودی کو گالی دینے کا کام نہ کیا ہو۔ مودی نے کہا کہ مجھے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ صحت کا کیا راز ہے، میں نے کہا میں روزانہ دو کلو گالی کھاتا ہوں۔
پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران کانگریس کی ماضی کی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی ایک دہائی کے دوران ماضی کی غلطیاں ٹھیک کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کے نعروں پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘وہ کہتے ہیں مودی تیری قبر کھدے گی، یہ صرف ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ ان کی میرے خلاف بدترین نفرت ظاہر ہو رہی ہے’۔ نریندر مودی نے کہا کہ کانگریس عوام کو مسئلہ سمجھتی ہے کیونکہ اندراگاندھی نے ایک دفعہ ایران کے دورے میں تقریر کرتے ہوئے اپنے والد نہرو جی سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی نے میرے والد سے پوچھا کہ ان کو کتنے مسائل کا سامنا ہے تو انہوں نے جواب دیا 35 کروڑ ہیں اور اس وقت بھارت کی آبادی 35 کروڑ تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔