کے آئی سی ٹی پر 50فیصد کارگو بیک لاگ سے سپلائی چین متاثر
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر ریحان حنیف نے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کے آئی سی ٹی) پریومیہ بنیاد پر 50 فیصد کارگو کے مستقل بیک لاگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بیک لاگ سپلائی چین کو بری طرح متاثر کر رہاہے جس کی وجہ سے کاروباری لاگت بڑھ رہی ہے اور کاروبار میں آسانی کی بجائے نقصان پہنچ رہاہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ کے آئی سی ٹی پررش کی سب سے بڑی وجہ کسٹمز عملے کی شدید کمی ہی بالخصوص کنسائنمنٹس کے لیے جانچ پڑتال کے لیے مختص عملہ ناکافی ہے لہٰذا عملے کی تعداد کم از کم 25 کرنی چاہیے جن کی نگرانی دو سینئر افسران کو کریں۔ ریحان حنیف نے کہا کہ جانچ پڑتال کا عمل حد سے زیادہ سست روی کا شکار ہونے کی وجہ سے تقریباً روزانہ آدھی سے زیادہ تعداد میں کنٹینرز کلیئرنس کے انتظار میں رہ جاتے ہیں۔ عملے کی بار بار تبدیلی بھی کلیئرنس کے عمل کو مزید تاخیر کا باعث بن رہی ہے۔ریحان حنیف نے یہ بھی بتایا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت درآمد کیے گئے 2 ہزار سے زائد کنٹینرز کے آئی سی ٹی پر پھنسے ہوئے ہیں جو رش کی ایک بڑی وجہ ہیں۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ تکنیکی طور پر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کنٹینر اسکین کرنے کی صلاحیت رکھنے والے لاکھوں ڈالر مالیت کے جدید کنٹینر اسکینرز نصب ہونے کے باوجودکلیئرنس کا عمل غیر معمولی طور پر سست روی کا شکار ہے جس کی اہم وجوہات میں عملے کی ناکافی تربیت، جدید اسکینرز کی مکمل صلاحیتوں سے لاعلمی، لائیو اسٹریمنگ فیچرز کی عدم دستیابی اور مانیٹرنگ عملے کی کمی شامل ہیں۔ صدر کے سی سی آئی نے بتایا کہ چیف کلیکٹر کسٹمزکے ساتھ ملاقات میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ صنعتی استعمال کے لیے خام مال یا سنگل آئٹم والے کنٹینرز کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جائے گا مگر افسوس کہ یہ ہدایات عملی طور پر نافذ نہیں کی گئیں اور سادھے کنسائنمنٹس بھی بلاجواز تاخیر کا شکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرکوں پر ٹریکر نصب کرنے کا عمل بھی ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ ایک ٹرک پر ٹریکر لگانے میں 4 سے 5 گھنٹے لگتے ہیں جس سے لمبی قطاریں، کارگو کی تاخیر سے منتقلی اور کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے لہٰذا اس پورے نظام پر فوری نظرثانی اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ریحان حنیف نے نشاندہی کی کہ کے آئی سی ٹی پر مختلف نوعیت کا کارگو بڑی تعداد میں آتا ہے جسے جانچ پڑتال کے لیے کھولنا اور دوبارہ پیک کرنا پڑتا ہیجس میں وقت لگتا ہے جو اکثر رش کا باعث بنتا ہے۔ یہ مسئلہ برسوں سے موجود ہے جو ٹرمینل آپریشنز کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ چائنیز نیو ایئر کی وجہ سے5 فروری سے 15 فروری 2026 کے دوران کے آئی سی ٹی پر غیر معمولی تعداد میں کنسائنمنٹس آنے کی توقع ہے۔ چین میں فیکٹریوں کی طویل بندش کے باعث درآمد کنندگان نے پیشگی زیادہ آرڈرز دیے ہیں اور عید بھی قریب ہے جس میں صارفین کی اشیاء کی آمد معمول کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر فوری اصلاحاتی اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ جائے گی جس سے شدیدرش، مقامی مارکیٹوں میں اشیاء کی قلت، درآمد کنندگان اور ٹرمینل آپریٹرز کو مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ صدر کراچی چیمبر نے وفاقی وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور ممبر کسٹمز آپریشنز سے پْر زور اپیل کی کہ وہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری مداخلت کریں، کسٹمز عملے کی تعداد بڑھائی جائے، اسکیننگ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنیا جائے، صنعتی خام مال کی کلیئرنس تیز کی جائے اور ٹریکر نصب کرنے کے عمل کو معقول بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بروقت اقدامات نہ صرف تجارت و صنعت کو بچانے کے لیے ضروری ہیں بلکہ مارکیٹوں کو مستحکم رکھنے اور صارفین کو مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافے سے بچانے کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ا ئی سی ٹی پر ریحان حنیف نے انہوں نے عملے کی کے لیے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔