Jasarat News:
2026-06-02@23:38:10 GMT

کے آئی سی ٹی پر 50فیصد کارگو بیک لاگ سے سپلائی چین متاثر

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر ریحان حنیف نے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کے آئی سی ٹی) پریومیہ بنیاد پر 50 فیصد کارگو کے مستقل بیک لاگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بیک لاگ سپلائی چین کو بری طرح متاثر کر رہاہے جس کی وجہ سے کاروباری لاگت بڑھ رہی ہے اور کاروبار میں آسانی کی بجائے نقصان پہنچ رہاہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ کے آئی سی ٹی پررش کی سب سے بڑی وجہ کسٹمز عملے کی شدید کمی ہی بالخصوص کنسائنمنٹس کے لیے جانچ پڑتال کے لیے مختص عملہ ناکافی ہے لہٰذا عملے کی تعداد کم از کم 25 کرنی چاہیے جن کی نگرانی دو سینئر افسران کو کریں۔ ریحان حنیف نے کہا کہ جانچ پڑتال کا عمل حد سے زیادہ سست روی کا شکار ہونے کی وجہ سے تقریباً روزانہ آدھی سے زیادہ تعداد میں کنٹینرز کلیئرنس کے انتظار میں رہ جاتے ہیں۔ عملے کی بار بار تبدیلی بھی کلیئرنس کے عمل کو مزید تاخیر کا باعث بن رہی ہے۔ریحان حنیف نے یہ بھی بتایا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت درآمد کیے گئے 2 ہزار سے زائد کنٹینرز کے آئی سی ٹی پر پھنسے ہوئے ہیں جو رش کی ایک بڑی وجہ ہیں۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ تکنیکی طور پر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کنٹینر اسکین کرنے کی صلاحیت رکھنے والے لاکھوں ڈالر مالیت کے جدید کنٹینر اسکینرز نصب ہونے کے باوجودکلیئرنس کا عمل غیر معمولی طور پر سست روی کا شکار ہے جس کی اہم وجوہات میں عملے کی ناکافی تربیت، جدید اسکینرز کی مکمل صلاحیتوں سے لاعلمی، لائیو اسٹریمنگ فیچرز کی عدم دستیابی اور مانیٹرنگ عملے کی کمی شامل ہیں۔ صدر کے سی سی آئی نے بتایا کہ چیف کلیکٹر کسٹمزکے ساتھ ملاقات میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ صنعتی استعمال کے لیے خام مال یا سنگل آئٹم والے کنٹینرز کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جائے گا مگر افسوس کہ یہ ہدایات عملی طور پر نافذ نہیں کی گئیں اور سادھے کنسائنمنٹس بھی بلاجواز تاخیر کا شکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرکوں پر ٹریکر نصب کرنے کا عمل بھی ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ ایک ٹرک پر ٹریکر لگانے میں 4 سے 5 گھنٹے لگتے ہیں جس سے لمبی قطاریں، کارگو کی تاخیر سے منتقلی اور کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے لہٰذا اس پورے نظام پر فوری نظرثانی اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ریحان حنیف نے نشاندہی کی کہ کے آئی سی ٹی پر مختلف نوعیت کا کارگو بڑی تعداد میں آتا ہے جسے جانچ پڑتال کے لیے کھولنا اور دوبارہ پیک کرنا پڑتا ہیجس میں وقت لگتا ہے جو اکثر رش کا باعث بنتا ہے۔ یہ مسئلہ برسوں سے موجود ہے جو ٹرمینل آپریشنز کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ چائنیز نیو ایئر کی وجہ سے5 فروری سے 15 فروری 2026 کے دوران کے آئی سی ٹی پر غیر معمولی تعداد میں کنسائنمنٹس آنے کی توقع ہے۔ چین میں فیکٹریوں کی طویل بندش کے باعث درآمد کنندگان نے پیشگی زیادہ آرڈرز دیے ہیں اور عید بھی قریب ہے جس میں صارفین کی اشیاء کی آمد معمول کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر فوری اصلاحاتی اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ جائے گی جس سے شدیدرش، مقامی مارکیٹوں میں اشیاء کی قلت، درآمد کنندگان اور ٹرمینل آپریٹرز کو مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ صدر کراچی چیمبر نے وفاقی وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور ممبر کسٹمز آپریشنز سے پْر زور اپیل کی کہ وہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری مداخلت کریں، کسٹمز عملے کی تعداد بڑھائی جائے، اسکیننگ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنیا جائے، صنعتی خام مال کی کلیئرنس تیز کی جائے اور ٹریکر نصب کرنے کے عمل کو معقول بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بروقت اقدامات نہ صرف تجارت و صنعت کو بچانے کے لیے ضروری ہیں بلکہ مارکیٹوں کو مستحکم رکھنے اور صارفین کو مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافے سے بچانے کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ا ئی سی ٹی پر ریحان حنیف نے انہوں نے عملے کی کے لیے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد