کراچی، سکھن تھانے کے باہر وکلاء کا دھرنا، سڑک بند، ایس ایچ او پر جانبداری کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ملیر میں سکھن تھانے کے باہر اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب وکلاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے دونوں اطراف کی سڑکیں بند کر دیں۔
احتجاج کے باعث پورٹ قاسم سے قائد آباد آنے اور جانے والا ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاجی وکلاء نے ایس ایچ او سکھن خالد میمن کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گزشتہ روز باڑے میں لین دین کے تنازع کے دوران ان پر بھینسوں میں استعمال ہونے والے انجکشن سے حملہ کیا گیا۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد انہوں نے متعدد بار پولیس سے میڈیکل لیٹر کے لیے درخواست کی، تاہم پولیس نے تاخیر سے لیٹر جاری کیا۔
وکلاء نے مزید الزام لگایا کہ حملہ آور تھانے میں موجود تھے اور ایس ایچ او نے یقین دہانی کرائی کہ میڈیکل کروانے کے بعد ملزمان کو نہیں چھوڑا جائے گا، لیکن جیسے ہی میڈیکل کراکر پہنچے تو ایس ایچ او خالد میمن نے مبینہ طور پر حملہ آوروں کو فرار کرا دیا۔
احتجاجی وکلاء کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او نے انہیں یہ کہہ کر مقدمہ درج کرنے سے بھی انکار کر دیا کہ بھلے تم وکلاء ہو، میں مقدمہ درج نہیں کروں گا۔
وکلاء نے واضح اعلان کیا ہے کہ جب تک ایس ایچ او سکھن کو عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا ان کا دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔
دوسری جانب واقعے سے متعلق ایس ایچ او سکھن خالد میمن کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آ سکا جبکہ علاقے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس ایچ او وکلاء نے
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔