کراچی:

شہر قائد کے علاقے ملیر میں سکھن تھانے کے باہر اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب وکلاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے دونوں اطراف کی سڑکیں بند کر دیں۔

احتجاج کے باعث پورٹ قاسم سے قائد آباد آنے اور جانے والا ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

احتجاجی وکلاء نے ایس ایچ او سکھن خالد میمن کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گزشتہ روز باڑے میں لین دین کے تنازع کے دوران ان پر بھینسوں میں استعمال ہونے والے انجکشن سے حملہ کیا گیا۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد انہوں نے متعدد بار پولیس سے میڈیکل لیٹر کے لیے درخواست کی، تاہم پولیس نے تاخیر سے لیٹر جاری کیا۔

وکلاء نے مزید الزام لگایا کہ حملہ آور تھانے میں موجود تھے اور ایس ایچ او نے یقین دہانی کرائی کہ میڈیکل کروانے کے بعد ملزمان کو نہیں چھوڑا جائے گا، لیکن جیسے ہی میڈیکل کراکر پہنچے تو ایس ایچ او خالد میمن نے مبینہ طور پر حملہ آوروں کو فرار کرا دیا۔

احتجاجی وکلاء کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او نے انہیں یہ کہہ کر مقدمہ درج کرنے سے بھی انکار کر دیا کہ بھلے تم وکلاء ہو، میں مقدمہ درج نہیں کروں گا۔

وکلاء نے واضح اعلان کیا ہے کہ جب تک ایس ایچ او سکھن کو عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا ان کا دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔

دوسری جانب واقعے سے متعلق ایس ایچ او سکھن خالد میمن کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آ سکا جبکہ علاقے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایس ایچ او وکلاء نے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن