کوئٹہ‘ 5 روز سے معطل ٹرین سروس مکمل بحال
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ(صباح نیوز) کوئٹہ سے اندرون صوبہ اور دیگر صوبوں کے لیے ٹرین سروس بحال کر دی گئی۔ ریلوے حکام کے مطابق سیکورٹی خدشات کے باعث 31 جنوری کو ہونے والے حملوں کے بعد گزشتہ 5 روز سے معطل ٹرین سروس کو بحال کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ سے اندرونِ صوبہ بلوچستان اور دیگر صوبوں کے لیے ٹرین آپریشن مرحلہ وار دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ حکامکا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوگئی، جس کے بعد مسافروں نے سکھ کا سانس لیا، اسی طرح کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی سروس بھی بحال کر دی گئی ہے۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق کراچی اور کوئٹہ کے درمیان چلنے والی بولان میل ٹرین سروس آئندہ چند روز میں بحال کر دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔