امریکا اور ایران کے براہِ راست مذاکرات آج مسقط میں ہوں گے، پاکستان سمیت کوئی تیسرا ملک شامل نہیں ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات آج کچھ دیر بعد عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات براہِ راست ہوں گے جن میں کسی تیسرے ملک کی شرکت شامل نہیں ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ان مذاکرات میں شریک نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان سمیت دیگر ممالک کو اس عمل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ بات چیت مکمل طور پر امریکا اور ایران کے درمیان ہوگی۔
مذاکرات میں ایران کی نمائندگی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جبکہ امریکا کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف شریک ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی شرکت بھی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر مرکوز ہوں گے جبکہ مستقبل کے سفارتی لائحہ عمل پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں ایران پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی گئیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات معطل ہو گئے تھے۔
حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اسرائیل، ایران اور امریکا کے درمیان بیانات، اور عالمی دباؤ کے باعث ایک بار پھر سفارتی رابطوں کی کوششیں تیز ہوئیں۔
مسقط میں ہونے والے یہ مذاکرات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھے جا رہے ہیں، جنہیں دونوں ممالک کے تعلقات میں ممکنہ پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور ایران کے کے درمیان ہوں گے
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔