ایران: پاسداران انقلاب فورسز نے خلیج میں دو آئل ٹینکر ضبط کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
ایرانی فورس پاسدارانِ انقلاب نے خلیج میں دو آئل ٹینکر قبضے میں لے لیے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق غیر ملکی عملے کے حامل 2 آئل ٹینکروں کو ایندھن اسمگلنگ کے الزام میں تحویل میں لیا گیا ہے۔
تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ضبط کیے گئے ٹینکروں پر کون سے ممالک کے پرچم لگے تھے اور عملے کا تعلق کن ملکوں سے ہے۔
ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق دونوں جہازوں سے 10 لاکھ لیٹر سے زائد اسمگل شدہ ایندھن برآمد کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر عملے کے 15 غیر ملکی ارکان کو عدالتی کارروائی کے لیے حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے یہ ٹینکر خلیج میں واقع ایرانی جزیرے فارسی کے قریب تحویل میں لیے۔
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ یہ جہاز گزشتہ کئی ماہ سے اسمگلنگ میں ملوث تھے اور نگرانی، انٹیلی جنس معلومات اور سمندری کارروائیوں کے بعد انہیں روکا گیا۔
خیال رہے کہ ایران ماضی میں بھی خلیج اور آبنائے ہرمز میں ایسے ٹینکروں کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے جنہیں ایران غیر قانونی ایندھن تجارت کا حصہ قرار دیتا ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران میں ایندھن کی قیمتیں دنیا میں کم ترین شمار ہوتی ہیں جس کے باعث دیگر ممالک کو ایندھن اسمگل کرنا منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایجنسی کے مطابق
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔