سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بلوچستان میں ٹرین سروس دوبارہ معطل
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر چھ روز بعد بحال ہونے والی ٹرین سروس دوبارہ معطل کر دی گئی۔
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق بلوچستان میں بڑھتے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوبے بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور چھ روز بعد بحال ہونے والی ٹرین سروس ایک بار پھر معطل کر دی گئی ہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی ہے۔ اہم تنصیبات اور حساس مقامات کی سیکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کی رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات، یادداشت پیش کی
قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف علاقوں میں گشت کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے قبل ہی کارروائی ممکن ہو سکے۔
ریلوے حکام کے مطابق ٹرین سروس کی معطلی کے سبب مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد ہی ٹرین آپریشن دوبارہ بحال کیا جائے گا جبکہ صوبے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی ہیں۔
سیکیورٹی اداروں بشمول کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز کے دوران درجنوں مشکوک افراد کو حراست میں لیا، جبکہ کارروائیوں کے دوران اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سخت تحفظات ہیں: علامہ راجا ناصر عباس
حکام کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھلی ہیں اور شہری نقل و حرکت بلا تعطل جاری رکھ سکتے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مکمل کنٹرول کے لیے ہائی الرٹ اور حفاظتی اقدامات جاری رہیں گے تاکہ صوبے میں امن و امان قائم رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ 5 دن کی معطلی کے بعد گزشتہ روز ٹرین سروس بحال ہوئی تھی۔ 31 جنوری کو صوبے بھر میں متعدد مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کے باعث ریلوے ٹریکس کو نقصان پہنچا تھا اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پاکستان ریلویز نے کوئٹہ سے اندرونِ صوبہ اور دیگر صوبوں کی جانب چلنے والی تمام ٹرین سروسز عارضی طور پر معطل کر دی تھیں۔
9مئی واقعات میں میرا نام شامل کرنے کیلئے پولیس پر دباؤ ہے،ہماری کارکردگی نہ ہوتی تو تیسری بار حکومت نہ ملتی ؛سہیل آفریدی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سیکیورٹی خدشات کے پیش بلوچستان میں
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔