پاکستان کو اگلے 10 برس میں قریباً 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی، شیری رحمان
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پاکستان کو اگلے 10 برس میں قریباً 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی، اور ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے بھی اس مؤقف کی تائید کی ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ بھاری ٹیکسز اور سرمایہ کاری کی کمی روزگار کے مواقع دبا رہی ہیں اور ملک میں معاشی شرح نمو آبادی کے دباؤ سے کہیں کم ہے۔
مزید پڑھیں:بڑھتی ہوئی آبادی کیساتھ 60 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا، آبی ذخائر کے عالمی دن پر شیری رحمان کا پیغام
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان واحد ملک بنتا جا رہا ہے جہاں آبادی اور معیشت کا عدم توازن مالتھس کے نظریے کو درست ثابت کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بیروزگاری کی شرح 7 فیصد سے زائد ہے لیکن حکومت کے پاس روزگار پیدا کرنے کا واضح لائحہ عمل موجود نہیں۔
I said this 2 days ago in the Senate finance committee.
— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) February 6, 2026
شیری رحمان نے زور دیا کہ صرف خسارے والے سرکاری ادارے بند کرنے سے روزگار پیدا نہیں ہوگا، بلکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فعال کرنا ضروری ہے، کیونکہ پاکستان میں 90 فیصد روزگار نجی شعبہ پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے انتباہ کیا کہ بڑے کاروبار پر ٹیکس اور توانائی کی بلند لاگت سرمایہ کاروں کو ملک سے دور کر رہی ہے، اور اگر نوجوانوں کو روزگار نہ ملا تو بے روزگاری، عدم تحفظ اور ملک چھوڑنے کی شرح میں اضافہ ہوگا۔
مزید پڑھیں:ورلڈ بینک کی سربراہی کے لیے نامزد بھارتی نژاد اجے بنگا کون ہیں؟
شیری رحمان نے کہا کہ روزگار کے بغیر معاشی اصلاحات عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہوں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 برس 3 کروڑ اجے بنگا پاکستان شیری رحمان ورلڈ بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 3 کروڑ اجے بنگا پاکستان ورلڈ بینک کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔