نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پاکستان کو اگلے 10 برس میں قریباً 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی، اور ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے بھی اس مؤقف کی تائید کی ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ بھاری ٹیکسز اور سرمایہ کاری کی کمی روزگار کے مواقع دبا رہی ہیں اور ملک میں معاشی شرح نمو آبادی کے دباؤ سے کہیں کم ہے۔

مزید پڑھیں:بڑھتی ہوئی آبادی کیساتھ 60 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا، آبی ذخائر کے عالمی دن پر شیری رحمان کا پیغام

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان واحد ملک بنتا جا رہا ہے جہاں آبادی اور معیشت کا عدم توازن مالتھس کے نظریے کو درست ثابت کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بیروزگاری کی شرح 7 فیصد سے زائد ہے لیکن حکومت کے پاس روزگار پیدا کرنے کا واضح لائحہ عمل موجود نہیں۔

I said this 2 days ago in the Senate finance committee.

But officials did not like it because no one had a plan. Despite the fact that unemployment rates are at 7 % plus. Shutting down loss making SOEs without incentivising the manufacturing sector that will create jobs is no… https://t.co/nl6r38zevO

— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) February 6, 2026

شیری رحمان نے زور دیا کہ صرف خسارے والے سرکاری ادارے بند کرنے سے روزگار پیدا نہیں ہوگا، بلکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فعال کرنا ضروری ہے، کیونکہ پاکستان میں 90 فیصد روزگار نجی شعبہ پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ بڑے کاروبار پر ٹیکس اور توانائی کی بلند لاگت سرمایہ کاروں کو ملک سے دور کر رہی ہے، اور اگر نوجوانوں کو روزگار نہ ملا تو بے روزگاری، عدم تحفظ اور ملک چھوڑنے کی شرح میں اضافہ ہوگا۔

مزید پڑھیں:ورلڈ بینک کی سربراہی کے لیے نامزد بھارتی نژاد اجے بنگا کون ہیں؟

شیری رحمان نے کہا کہ روزگار کے بغیر معاشی اصلاحات عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 برس 3 کروڑ اجے بنگا پاکستان شیری رحمان ورلڈ بینک

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 3 کروڑ اجے بنگا پاکستان ورلڈ بینک کہا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟