ایپسٹین فائلز میں بھارت کے نامور ہدایت کار کا نام بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
ایپسٹین فائلز میں بھارت کے نامور فلمساز انوراگ کشیپ کا نام بھی سامنے آگیا تاہم بالی ووڈ ڈائریکٹر نے روابط کی تردید کرتے ہوئے ان دعوؤں کو کلک بیٹ قرار دے دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ساز انوراگ کشیپ کا نام ایپسٹین فائلز میں مبینہ طور پر ’بالی ووڈ بوائے‘ کے طور پر لیا گیا ہے۔
ایپسٹین فائلز کے اجرا کے بعد دنیا بھر میں توجہ مرکوز ہو گئی ہے، جن میں مرحوم اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں سے جڑی دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز شامل ہیں۔
غیر مصدقہ دستاویزات میں گردش کرنے والا ایک نام فلم ساز انوراگ کشیپ کا ہے، مبینہ ای میلز میں انہیں ’بالی ووڈ بوائے‘ اور ’مشہور بالی ووڈ ڈائریکٹر‘ کہا گیا ہے۔
ای میل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ 2017 میں بیجنگ میں ایپسٹین سے منسلک ایک تقریب میں شرکت کرنے والے تھے۔
تاہم، انوراگ کشیپ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس بارے میں کچھ بھی علم نہیں، مجھے بطور مقرر تقریباً ماہانہ 15 دعوت نامے آتے ہیں، جن کا میں شاذ و نادر ہی جواب دیتا ہوں اور میں اپنی زندگی میں کبھی بیجنگ گیا ہی نہیں۔
انہوں نے دستاویزات کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی بے ترتیب ای میل ہے، جو خود ہی سب کچھ واضح کر دیتی ہے، میرے نام پر بننے والی کلک بیٹس میری فلموں سے زیادہ مقبول ہیں۔
ایپسٹین فائلز کیا ہیں؟سمندر کے بیچوں بیچ ایک خاموش جزیرہ، جسے دنیا ’پیڈوفائل آئی لینڈ‘ یا عیاشی کا جزیرہ کہتی آئی ہے۔ ایک اسپیثل چارٹرڈ پلین جس کا نام ’لولیتا ایکسپریس‘ رکھا گیا اور جس کے مسافر دنیا کے طاقتور ترین سیاستدان، ارب پتی بزنس مین اور ہالی ووڈ کے ستارے تھے۔
ایپسٹین فائلز: اصل قصہ کیا ہے؟
اس جزیرے کے بند کمروں میں معصومیت کا سودا ہوتا تھا، جہاں غریب گھرانوں کی 14 سے 17 سال کی لڑکیوں کو ایک سوچے سمجھے نیٹ ورک کے ذریعے اسمگل کیا جاتا۔ یہاں ہوس کا کھیل کھیلا جاتا، طاقت کی نمائش ہوتی اور قانون کی دھجیاں اڑائی جاتیں۔ یہ وہ مکروہ دھندہ تھا جس نے برسوں تک دنیا کی سب سے بااثر اشرافیہ کو اپنے جال میں جکڑے رکھا، اور اس پورے کالے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ تھا جیفری ایپسٹین۔
ایپسٹین کی کہانی کسی فلمی ولن سے کم نہیں، جس نے ایک عام اسکول ٹیچر سے دنیا کے بااثر ترین شخص بننے تک کا سفر بڑی تیزی سے طے کیا۔ نیویارک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے ایپسٹین نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ریاضی کے استاد کے طور پر کیا، لیکن اس کی منزل ایوانِ اقتدار تھے۔ بغیر کسی ڈگری کے وال اسٹریٹ کی بلندیوں کو چھونا اور پھر عالمی سیاستدانوں کا یار بن جانا، آج بھی ایک معمہ ہے۔
اس کی اس پراسرار زندگی میں سب سے اہم کردار اس کی ساتھی غسلین میکسویل کا تھا، جو برطانوی میڈیا ٹائیکون اور مبینہ اسرائیلی ایجنٹ رابرٹ میکسویل کی بیٹی تھی۔ رابرٹ میکسویل کی موت کے بعد، غسلین نے ایپسٹین کے لیے وہ تمام دروازے کھول دیے جو صرف عالمی اشرافیہ کے لیے کھلے ہوتے تھے، اور یوں ہوس اور بلیک میلنگ کا ایک ایسا جال بچھا جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
جیفری ایپسٹین کے تعلقات ہالی ووڈ اسٹارز سے لے کر سابق امریکی صدور بل کلنٹن، ڈونلڈ ٹرمپ، مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور اسٹیفن ہاکنگ جیسے بڑے سائنسدان تک پھیلے ہوئے تھے۔ لیکن اس چمکتی دمکتی دنیا کے پیچھے حقیقت یہ تھی کہ ایپسٹین ایک خطرناک جنسی درندہ تھا، جس کی ہوس کا یہ عالم تھا کہ وہ چند گھنٹے کے فضائی سفر کے دوران بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتا تھا۔
ایپسٹین کا قانون سے بچنے کا فن بھی کمال تھا۔ 2008 میں جب اس کے خلاف ٹھوس ثبوت ملے، تو اس نے اپنے طاقتور وکلا اور تعلقات کے ذریعے عمر قید کی سزا کو محض 13 ماہ کی معمولی قید میں بدلوا لیا۔ لیکن 2019 میں جب وہ دوبارہ گرفتار ہوا، تو ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ہی وہ جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری طور پر اسے خودکشی قرار دیا گیا، مگر دنیا آج بھی مانتی ہے کہ اسے قتل کیا گیا تاکہ وہ طاقتور لوگوں کے نام نہ اگل سکے۔
ایپسٹین کی موت کے بعد متاثرہ لڑکیوں کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں وہ دستاویزات منظرِ عام پر آئیں جنہیں آج ہم ’ایپسٹین فائلز‘ کہتے ہیں۔ ان فائلوں میں برطانوی شہزادے اینڈریو پر براہِ راست سنگین الزامات لگے، جبکہ سابق صدور کے علاوہ مشہور بھارتی فلم ساز میرا نائر یعنی نیویارک کے موجودہ مئیر ظہران ممدانی کی والدہ، مائیکل جیکسن اور جادوگر ڈیوڈ کاپرفیلڈ جیسے ناموں کا تذکرہ بھی ملا۔
تحقیقات کے دوران ایک سنسنی خیز انکشاف ’’Baal‘‘ نامی بینک اکاؤنٹ کے بارے میں بھی ہوا، جس کا نام ایک ایسے قدیم شیطانی دیوتا سے منسوب ہے جس کے نام پر بچوں کی مبینہ قربانی دی جاتی تھی۔ اگرچہ اس کا باقاعدہ ثبوت نہیں ملا، لیکن ایپسٹین کے جزیرے پر بنے عجیب و غریب معبد اور پیچیدہ مالیاتی نظام نے ان شکوک کو جنم دیا کہ یہ نیٹ ورک شاید کسی شیطانی گروہ کا حصہ تھا۔
ایپسٹین فائلوں میں شامل 150 سے زائد ناموں میں سے ہر نام مجرم نہیں، لیکن قانونی ماہرین کے مطابق یہ دستاویزات اس بات کا ٹھوس ثبوت ہیں کہ کس طرح ’نان ڈسکلوژر ایگریمنٹس‘ یا (NDAs) اور لاکھوں ڈالرز کی خاموش ادائیگیوں کے ذریعے سچ کو دبایا جاتا رہا۔
دنیا اب جان چکی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ریکارڈز کسی طور مٹائے نہیں جا سکتے۔ اب سوال یہ نہیں کہ ’کون بچے گا‘، بلکہ سوال یہ ہے کہ ’کب تک بچے گا؟‘ کیونکہ ایپسٹین فائلز کا کھلنا اس بھیانک سچائی کی صرف شروعات ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایپسٹین فائلز انوراگ کشیپ بالی ووڈ کے نام کا نام
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔