عمران کی صحت سے متعلق شدید تحفظات ہیں،اپوزیشن لیڈر
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد:سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پاکستان کے معزز شہری ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے علامہ راجاناصر عباس نے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس کو کیا یہ حق حاصل ہے کہ پرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج کرے اور انہیں تھانوں میں بند کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ظلم کسی صورت قابلِ قبول نہیں، حتیٰ کہ فرعون پر بھی ظلم نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا حکومتیں لوگوں کو حق دینے کے لیے ہوتی ہیں، بانی پی ٹی آئی پاکستان کے معزز شہری ہیں، ان کے کچھ حقوق ہیں جن کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
پہلے کہا گیا بانی بیمار ہی نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ہمارے سخت تحفظات ہیں، عمران خان سے ملاقات سے کیا ہو جائے گا؟
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا ان کی فیملی کا حق ہے، کسی سے نہ ڈریں، کیا ایک بزرگ سیاستدان کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے نہیں دیا تھا؟
اپوزیشن لیڈر سینیٹ کا کہنا تھا ہم نے 8 فروری کو احتجاج کرنا ہے، 8 فروری کا پرامن احتجاج ہے، ہم نے تو نہیں کہا کہ زبردستی ٹریفک بند کریں گے، دکانیں بند کریں گے، لوگوں کو کیوں اٹھا رہے ہیں، یہ تو فاشزم میں ہوتا ہے۔
حکومت سے پہلے بھی ہم نے سوال کیا کوئی جواب نہیں آیا، پارلیمنٹ کو غیر متعلقہ کر دیا گیا ہے، یہ عقلمندانہ کام نہیں۔
ہمیں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ چلے جائیں، سیاستدانوں کو سیاست سے محروم کرنا، بیان دینے سے روکنا بھی ظلم ہے، اگر نواز شریف کے ساتھ ایسا ہوتا تو میں ان کے حق میں بھی بولتا، چیئرمین صاحب آپ حکومت کو حکم کریں، ایوان کو غیرمتعلقہ نہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بانی پی ٹی آئی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔