برطانیہ؛ زیادتی کے بعد خواتین کی برہنہ لاش پھینکنے والے سیریل کلر کو 61 سال قید
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
برطانیہ کے بدنام زمانہ جنسی درندے اور سیریل کلر اسٹیو رائٹ آخرکار اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچ گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مشہور برطانوی سیریل کلر اسٹیو رائٹ کو 17 سالہ لڑکی کے قتل اور ایک اور کے اغوا کی کوشش کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی۔
یہ واقعہ 1999 کا ہے جب وکٹوریہ ہال رات گئے کلب سے گھر جاتے ہوئے راستے میں کہیں گمشدہ ہوگئی تھیں اور 5 دن بعد برہنہ حالت میں لاش ایک نالے سے ملی تھی۔
برسوں تک اندھا قتل کئی حل نہ ہو سکا تھا لیکن 2019 میں پولیس نے دوبارہ تحقیقات شروع کیں اور ڈی این اے کے جدید تجزیات کے ذریعے اسٹیو رائٹ کو شامل تفتیش کیا گیا۔
اسٹیو ائٹ 2006 میں پانچ خواتین کے قتل کے جرم میں گرفتار تھا اور تفتیش کے دوران ڈی این اے ملنے سے 2019 کا یہ غیر حل شدہ معمہ بھی حل ہوگیاْ
اسٹیو رائٹ کا پچھلا ڈی این اے 2001 کا تھا اور جو چوری کے جرم میں لیا گیا ڈیٹا بیس کا حصہ تھا جس سے اس کا تعلق وکٹوریہ کے قتل سے بھی ٹھہرا۔
وکٹوریہ کے قتل کے اگلے ہی روز ایک اور لڑکی ایملی ڈوہرٹی کی زیادتی کی نیت سے اغوا کی ناکام کوشش بھی کی گئی تھی اور اس مکروہ عمل میں بھی اسٹیو رائٹ ملوث تھا۔
سزا کے حساب سے مجرم اسٹیو رائٹ کو وکٹوریہ کے قتل پر 40 سال، اس کے اغوا پر 12 سال اور ایملی کے اغوا کی کوشش پر 9 سال قید کی سزا دی گئی۔
اس طرح مجموعی طور پر اسٹیو رائٹ کو 61 سال کی سزا سنائی گئی جن میں سے وہ کم از کم 40 سال قید کاٹیں گے۔
یاد رہے کہ اسٹیو رائٹ پہلے ہی 2006 میں 5 خواتین کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سخت ترین سزا بھگت رہا ہے جس کی وجہ سے اسے رہائی کا امکان نہیں ہے اور وہ قید ہی میں مرنے کے لیے تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹیو رائٹ کو کے جرم میں کے قتل
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔