اسلام آباد میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے وفد نے امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، انتخابی عمل، احتجاجی تحریک اور امن و امان کے مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد اپوزیشن قیادت نے مشترکہ طور پر حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا اور احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا۔

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے وفد میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عاطف خان، جنید اکبر اور اخونزادہ حسین یوسفزئی شامل تھے۔ جبکہ ملاقات میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر مولانا عبدالواسع اور سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی شریک ہوئے۔

ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملک میں نئے اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیے بغیر جمہوری استحکام ممکن نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو جمعیت علمائے اسلام (ف) اپنے احتجاجی پروگراموں کو تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ساتھ مرج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، مگر بدقسمتی سے کئی دہائیوں سے عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں، ان میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آ سکی۔

امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جس کے نتائج عوام بھگت رہے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 8 فروری کو طاقت کے ذریعے 25 کروڑ عوام کی رائے کو تبدیل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹے گئے اور میڈیا کا گلہ گھونٹا گیا، جو جمہوریت کے لیے خطرناک رجحانات ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے مزید بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے جنوبی افریقہ سے فون کر کے آج کے کھانے کی دعوت دی، جس پر انہوں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مولانا سے درخواست کی کہ ہم 8 تاریخ کو پہیہ جام کرنا چاہتے ہیں، جبکہ آپ پہیہ چلانا چاہتے ہیں، اس موقع پر ہمارے ساتھ گزارا کریں۔

اپوزیشن قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا

پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔

ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔

        View this post on Instagram                      

قومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔

اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن