تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن کی حمایت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے وفد نے امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، انتخابی عمل، احتجاجی تحریک اور امن و امان کے مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد اپوزیشن قیادت نے مشترکہ طور پر حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا اور احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے وفد میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عاطف خان، جنید اکبر اور اخونزادہ حسین یوسفزئی شامل تھے۔ جبکہ ملاقات میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر مولانا عبدالواسع اور سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی شریک ہوئے۔
ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملک میں نئے اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیے بغیر جمہوری استحکام ممکن نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو جمعیت علمائے اسلام (ف) اپنے احتجاجی پروگراموں کو تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ساتھ مرج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، مگر بدقسمتی سے کئی دہائیوں سے عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں، ان میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آ سکی۔
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جس کے نتائج عوام بھگت رہے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 8 فروری کو طاقت کے ذریعے 25 کروڑ عوام کی رائے کو تبدیل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹے گئے اور میڈیا کا گلہ گھونٹا گیا، جو جمہوریت کے لیے خطرناک رجحانات ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے مزید بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے جنوبی افریقہ سے فون کر کے آج کے کھانے کی دعوت دی، جس پر انہوں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مولانا سے درخواست کی کہ ہم 8 تاریخ کو پہیہ جام کرنا چاہتے ہیں، جبکہ آپ پہیہ چلانا چاہتے ہیں، اس موقع پر ہمارے ساتھ گزارا کریں۔
اپوزیشن قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔