مالی سال میں 6 ارب ڈالر کی ادائیگیاں مکمل، نئے کرنسی نوٹ عید تک نہیں آئیں گے، گورنر اسٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی :گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے مجموعی 10.5 ارب ڈالر کی ادائیگیوں میں سے 6 ارب ڈالر کی ادائیگیاں مکمل کر دی گئی ہیں اور باقی 4 سے 4.5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں بھی مقررہ وقت پر کی جائیں گی۔
صحافیوں سے گفتگو میں گورنر نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ستمبر 2027 تک جاری پروگرام کے تحت ڈپازٹس رول اوور کرنے کا بندوبست شامل ہے، جس سے ملک کی مالیاتی پوزیشن مستحکم رہے گی۔
جمیل احمد نے نئے کرنسی نوٹوں کے حوالے سے بتایا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نئے نوٹ کی پرنٹنگ اور اجرا میں کچھ وقت درکار ہوگا، لہذا نئے ڈیزائن کے نوٹ عید کے موقع پر دستیاب نہیں ہوں گے، نئے کرنسی نوٹوں میں جدید ترین حفاظتی فیچرز شامل کیے گئے ہیں، جن کی بدولت عام شہری خود بخود پہچان سکے گا کہ نوٹ اصلی ہے یا جعلی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے یقین دلایا کہ ملک کی مالی اور کرنسی پالیسی کو مضبوط اور شفاف بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ معیشت مستحکم رہ سکے اور عوام کو سہولت میسر ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ارب ڈالر کی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔