data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سیاست میں رابطے اور ملاقاتیں کوئی معیوب بات نہیں بلکہ یہ جمہوری رویے اور سیاسی بالغ نظری کی علامت ہیں، اگر وزیراعظم شہباز شریف ان کے پاس آتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں، یہ بڑے پن کی بات ہے، اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کریں۔

محمود اچکزئی نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب سیاسی لوگ ایک میز پر بیٹھتے ہیں تو سیاست پر ہی گفتگو ہوتی ہے اور اختلافِ رائے کے باوجود بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہیے، اپوزیشن جماعتوں نے جمہوری انداز میں پرامن احتجاج کا فیصلہ کیا ہے اور کسی قسم کی انتشار یا تصادم کی سیاست کے حق میں نہیں۔

محمود اچکزئی نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسی تناظر میں بسنت جیسی سرگرمیوں کو ملتوی کرنا ایک درست فیصلہ ہے کیونکہ انسانی جانوں کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے، قوموں کو آگے بڑھنے کے لیے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑتا ہے اور یہی راستہ مستقبل کی بہتری کی ضمانت بنتا ہے۔

اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت اپنے مطالبات پر قائم ہے اور 8 فروری کے انتخابی نتائج کو مسترد کرتی ہے، جے یو آئی کا مطالبہ ہے کہ ملک میں نئے، شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں تاکہ عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی عکاسی ہو سکے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر اگر جماعت نے کسی جلسے یا جلوس کا اعلان کیا تھا تو اسے منسوخ کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ حالات کو مزید کشیدہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج تک اپوزیشن کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں عدالتوں اور ٹریبونلز میں زیرِ سماعت ہیں، مگر حکومت اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ عوامی فیصلوں کا احترام کیا جائے اور سیاسی مسائل کا حل طاقت کے بجائے آئین اور قانون کے دائرے میں تلاش کیا جائے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ ہے اور

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان