ادیب، شاعر و نظریاتی سیاست داں اجمل خٹک
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
پختون قوم کے بارے میں عام تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ قوم غیور ہے، مہمان نواز ہے اور جنگجو ہے۔ یہ بات سچ بھی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ایک جانب ہم خان عبدالغفار خان جسے حریت رہنما کے طور پر جانتے ہیں کہ انھوں نے ہتھیار بند ہو کر اس وقت کی سامراجی برٹش سرکار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اپنے حریت پسند ساتھیوں کے ساتھ مل کر آزادی کی جنگ لڑی تو دوسری جانب ایسے بھی جاں نثاروں کے نام ہمارے سامنے آتے ہیں جنھوں نے علم و ادب و دیگر شعبوں میں خوب نام پیدا کیا۔
ایسے لوگوں میں ایک نام بڑا نمایاں ہے جس نے شاعری و صحافت کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی قدم رکھا اور گویا عملی جدوجہد کی۔انھیں ادب و سیاست کی دنیا میں اجمل خٹک کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اجمل خٹک نے 6 مئی 1925 کو اس وقت کے سرحد اور موجودہ نام خیبر پختونخوا میں حکمت خان خٹک کے گھر جنم لیا، اجمل خٹک کا شجرہ نسب دسویں پشت میں پشتو کے عظیم شاعر خوشحال خان خٹک سے ملتا ہے، یوں لازمی بات تھی کہ وہ خوشحال خان خٹک سے بے حد متاثر تھے۔ علم و ادب سے لگاؤ ان کی رگ رگ میں شامل تھا۔ ان کو بچپن ہی سے پڑھنے کا بے حد شوق تھا، یہی باعث تھا کہ انھوں نے منشی فاضل و ادیب فاضل کے امتحانات پاس کرنے کے بعد ایم۔اے فارسی میں بھی سند حاصل کی۔
انھوں نے عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور بعدازاں ریڈیو پاکستان پشاور سے وابستہ ہو گئے۔ یہی وقت تھا جب وہ ادب کی دنیا میں اپنا نام پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس وقت تک وہ ترقی پسند نظریات سے بے حد متاثر ہو چکے تھے ، اسی باعث جب 1948 میں صوبہ سرحد موجودہ نام خیبرپختونخوا میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام عمل میں آیا تو اجمل خٹک نے بھی اس میں شمولیت اختیار کر لی۔
اس وقت ان کی عمر عزیز 23 برس تھی۔ 1953 میں جب انجمن کو سیاسی قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی گئی تو نامور ادیبوں کے مشورے سے کراچی میں عوامی ادبی انجمن قائم ہوئی تو دیگر ادبی لوگوں کے ساتھ وہ بھی اس ادبی تنظیم کے قائم کرنے والوں میں شریک تھے۔ البتہ یہ ضرور تھا کہ اجمل خٹک نے فقط 22 برس کی عمر میں صحافت میں قدم رکھ دیا تھا۔ مطلب 1947 میں انھوں نے پشتو زبان میں چھپنے والے ماہنامہ عدل کی ادارت سے اپنی صحافت کا آغاز کیا۔ جب کہ بعدازاں روزنامہ انجام، بانگ حرم اور پشتو زبان میں چھپنے والے ماہنامہ شہباز کے لکھنے والوں میں شامل ہو گئے۔
البتہ 1955 میں 30 سالہ اجمل خٹک نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان نیشنل پارٹی میں شامل ہوگئے یوں ان کا شمار پاکستان نیشنل پارٹی کے بانی ارکان میں ہوتا تھا۔ البتہ 2 برس بعد جب اس پارٹی کو 1953 میں نیشنل عوامی پارٹی کا نام دے دیا گیا تو 32 سالہ اجمل خٹک بھی اس پارٹی میں شریک ہو گئے۔ اس موقع پر انھیں سرخ پوش رہنما خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی قیادت میں کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ یہ بھی کھلی صداقت ہے کہ وہ باچا خان کی شخصیت و جدوجہد سے بے حد متاثر تھے اور زندگی کے آخری وقت تک وہ باچا خان کی شخصیت کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔
اجمل خٹک نیشنل عوامی پارٹی میں بے حد سرگرم رہے۔ انھوں نے 1970 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا بھی فیصلہ کیا مگر آخری وقت میں ان انتخابات سے دست بردار ہو گئے۔ البتہ 1971 کے آخر میں سقوط ڈھاکا کے بعد عوامی حکومت قائم ہوئی تو نیشنل عوامی پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات ہو گئے، اگرچہ 1972 میں اجمل خٹک ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ چین کے دورے پر گئے تھے۔ اس کے باوجود یہ اختلافات 1973 تک شدت اختیار کر گئے، یوں متحدہ جمہوری محاذ کے تحت 23 مارچ 1973 کو راولپنڈی لیاقت باغ میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا، حکومت نے اس احتجاجی جلسے پرگولیاں چلانے کا حکم دیا نتیجہ 12 افراد جاں بحق ہو گئے۔
اس سانحے کو سانحہ راولپنڈی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس موقع پر اجمل خٹک دل برداشتہ ہوکر افغانستان جلا وطن ہو گئے۔ جلاوطنی کے دوران انھوں نے جو شاعری کی وہ شاعری مجموعے کی شکل میں شائع ہوچکی ہے۔ 16 برس بعد 1989 میں وہ پاکستان واپس آگئے اور سیاست میں سرگرم ہو گئے۔ 1990 میں اپنے حلقے نوشہرہ سے عام انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہو گئے، اسی برس وہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی 1975 میں پابندی کا شکار ہو گئی۔ چنانچہ 1988 میں نئے نام عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ دوبارہ قائم ہوئی تھی جب کہ 1993 میں اجمل خٹک سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔
1999 میں اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف پشاور آئے تو انھوں نے اجمل خٹک سے بھی ایک ملاقات کی۔ یہ ملاقات بالکل غیر سیاسی تھی جب کہ انھوں نے اسفند یار ولی کو بھی اس ملاقات کے بارے میں بتا دیا تھا مگر پھر بھی پارٹی کی جانب سے انھیں شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور بالآخر 7 مئی 2000 کو اجمل خٹک کو پارٹی سے خارج کر دیا گیا۔ بعد ازاں انھوں نے اپنی الگ پارٹی قائم کر لی اور اس پارٹی کا نام بھی عوامی نیشنل پارٹی رکھ لیا، لیکن 2002 کے عام انتخابات میں اس پارٹی کی مایوس کن کارکردگی کے باعث اپنی پارٹی کو عوامی نیشنل پارٹی میں ضم کر دیا البتہ ایک شاعر، ایک صحافی، ایک دانشور، ایک نظریاتی سیاستدان 7 فروری 2010 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔
اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ ایک محروم طبقے کا بچہ ہونے کے ناتے اور استحصال زدہ معاشرے میں پرورش پانے کے سبب جو اونچ نیچ ہے استحصال اور نفرت ہے اس کا مخالف ہوں۔ میری اس بنیادی سوچ کا ثبوت میری شاعری، سیاست، سیاسی زندگی اور رویوں میں ہر جگہ نظر آتا ہے۔ 7 فروری 2026 کو ان کی 16 ویں برسی ہے۔ اس موقعے پر ہم فقط اتنا عرض کریں گے کہ ہمارے ملک کو ایسے سیاست دانوں کی ضرورت ہے جوکہ دانشور ہوں اور عوامی مسائل کا ادراک رکھتے ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیشنل عوامی پارٹی عوامی نیشنل پارٹی اجمل خٹک نے پارٹی میں پارٹی کے اس پارٹی انھوں نے کے ساتھ بھی اس ہو گئے
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔