Express News:
2026-07-24@04:24:47 GMT

ادیب، شاعر و نظریاتی سیاست داں اجمل خٹک

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

پختون قوم کے بارے میں عام تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ قوم غیور ہے، مہمان نواز ہے اور جنگجو ہے۔ یہ بات سچ بھی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ایک جانب ہم خان عبدالغفار خان جسے حریت رہنما کے طور پر جانتے ہیں کہ انھوں نے ہتھیار بند ہو کر اس وقت کی سامراجی برٹش سرکار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اپنے حریت پسند ساتھیوں کے ساتھ مل کر آزادی کی جنگ لڑی تو دوسری جانب ایسے بھی جاں نثاروں کے نام ہمارے سامنے آتے ہیں جنھوں نے علم و ادب و دیگر شعبوں میں خوب نام پیدا کیا۔

ایسے لوگوں میں ایک نام بڑا نمایاں ہے جس نے شاعری و صحافت کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی قدم رکھا اور گویا عملی جدوجہد کی۔انھیں ادب و سیاست کی دنیا میں اجمل خٹک کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اجمل خٹک نے 6 مئی 1925 کو اس وقت کے سرحد اور موجودہ نام خیبر پختونخوا میں حکمت خان خٹک کے گھر جنم لیا، اجمل خٹک کا شجرہ نسب دسویں پشت میں پشتو کے عظیم شاعر خوشحال خان خٹک سے ملتا ہے، یوں لازمی بات تھی کہ وہ خوشحال خان خٹک سے بے حد متاثر تھے۔ علم و ادب سے لگاؤ ان کی رگ رگ میں شامل تھا۔ ان کو بچپن ہی سے پڑھنے کا بے حد شوق تھا، یہی باعث تھا کہ انھوں نے منشی فاضل و ادیب فاضل کے امتحانات پاس کرنے کے بعد ایم۔اے فارسی میں بھی سند حاصل کی۔

انھوں نے عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا اور بعدازاں ریڈیو پاکستان پشاور سے وابستہ ہو گئے۔ یہی وقت تھا جب وہ ادب کی دنیا میں اپنا نام پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس وقت تک وہ ترقی پسند نظریات سے بے حد متاثر ہو چکے تھے ، اسی باعث جب 1948 میں صوبہ سرحد موجودہ نام خیبرپختونخوا میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام عمل میں آیا تو اجمل خٹک نے بھی اس میں شمولیت اختیار کر لی۔

اس وقت ان کی عمر عزیز 23 برس تھی۔ 1953 میں جب انجمن کو سیاسی قرار دے کر اس پر پابندی عائد کر دی گئی تو نامور ادیبوں کے مشورے سے کراچی میں عوامی ادبی انجمن قائم ہوئی تو دیگر ادبی لوگوں کے ساتھ وہ بھی اس ادبی تنظیم کے قائم کرنے والوں میں شریک تھے۔ البتہ یہ ضرور تھا کہ اجمل خٹک نے فقط 22 برس کی عمر میں صحافت میں قدم رکھ دیا تھا۔ مطلب 1947 میں انھوں نے پشتو زبان میں چھپنے والے ماہنامہ عدل کی ادارت سے اپنی صحافت کا آغاز کیا۔ جب کہ بعدازاں روزنامہ انجام، بانگ حرم اور پشتو زبان میں چھپنے والے ماہنامہ شہباز کے لکھنے والوں میں شامل ہو گئے۔

البتہ 1955 میں 30 سالہ اجمل خٹک نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان نیشنل پارٹی میں شامل ہوگئے یوں ان کا شمار پاکستان نیشنل پارٹی کے بانی ارکان میں ہوتا تھا۔ البتہ 2 برس بعد جب اس پارٹی کو 1953 میں نیشنل عوامی پارٹی کا نام دے دیا گیا تو 32 سالہ اجمل خٹک بھی اس پارٹی میں شریک ہو گئے۔ اس موقع پر انھیں سرخ پوش رہنما خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی قیادت میں کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ یہ بھی کھلی صداقت ہے کہ وہ باچا خان کی شخصیت و جدوجہد سے بے حد متاثر تھے اور زندگی کے آخری وقت تک وہ باچا خان کی شخصیت کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔

اجمل خٹک نیشنل عوامی پارٹی میں بے حد سرگرم رہے۔ انھوں نے 1970 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا بھی فیصلہ کیا مگر آخری وقت میں ان انتخابات سے دست بردار ہو گئے۔ البتہ 1971 کے آخر میں سقوط ڈھاکا کے بعد عوامی حکومت قائم ہوئی تو نیشنل عوامی پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات ہو گئے، اگرچہ 1972 میں اجمل خٹک ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ چین کے دورے پر گئے تھے۔ اس کے باوجود یہ اختلافات 1973 تک شدت اختیار کر گئے، یوں متحدہ جمہوری محاذ کے تحت 23 مارچ 1973 کو راولپنڈی لیاقت باغ میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا، حکومت نے اس احتجاجی جلسے پرگولیاں چلانے کا حکم دیا نتیجہ 12 افراد جاں بحق ہو گئے۔

اس سانحے کو سانحہ راولپنڈی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس موقع پر اجمل خٹک دل برداشتہ ہوکر افغانستان جلا وطن ہو گئے۔ جلاوطنی کے دوران انھوں نے جو شاعری کی وہ شاعری مجموعے کی شکل میں شائع ہوچکی ہے۔ 16 برس بعد 1989 میں وہ پاکستان واپس آگئے اور سیاست میں سرگرم ہو گئے۔ 1990 میں اپنے حلقے نوشہرہ سے عام انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہو گئے، اسی برس وہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی 1975 میں پابندی کا شکار ہو گئی۔ چنانچہ 1988 میں نئے نام عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ دوبارہ قائم ہوئی تھی جب کہ 1993 میں اجمل خٹک سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔

1999 میں اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف پشاور آئے تو انھوں نے اجمل خٹک سے بھی ایک ملاقات کی۔ یہ ملاقات بالکل غیر سیاسی تھی جب کہ انھوں نے اسفند یار ولی کو بھی اس ملاقات کے بارے میں بتا دیا تھا مگر پھر بھی پارٹی کی جانب سے انھیں شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور بالآخر 7 مئی 2000 کو اجمل خٹک کو پارٹی سے خارج کر دیا گیا۔ بعد ازاں انھوں نے اپنی الگ پارٹی قائم کر لی اور اس پارٹی کا نام بھی عوامی نیشنل پارٹی رکھ لیا، لیکن 2002 کے عام انتخابات میں اس پارٹی کی مایوس کن کارکردگی کے باعث اپنی پارٹی کو عوامی نیشنل پارٹی میں ضم کر دیا البتہ ایک شاعر، ایک صحافی، ایک دانشور، ایک نظریاتی سیاستدان 7 فروری 2010 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ ایک محروم طبقے کا بچہ ہونے کے ناتے اور استحصال زدہ معاشرے میں پرورش پانے کے سبب جو اونچ نیچ ہے استحصال اور نفرت ہے اس کا مخالف ہوں۔ میری اس بنیادی سوچ کا ثبوت میری شاعری، سیاست، سیاسی زندگی اور رویوں میں ہر جگہ نظر آتا ہے۔ 7 فروری 2026 کو ان کی 16 ویں برسی ہے۔ اس موقعے پر ہم فقط اتنا عرض کریں گے کہ ہمارے ملک کو ایسے سیاست دانوں کی ضرورت ہے جوکہ دانشور ہوں اور عوامی مسائل کا ادراک رکھتے ہوں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نیشنل عوامی پارٹی عوامی نیشنل پارٹی اجمل خٹک نے پارٹی میں پارٹی کے اس پارٹی انھوں نے کے ساتھ بھی اس ہو گئے

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار