ترازو کا نشان ہی جدید ترقی یافتہ بنگلا دیش کی ضمانت ہے، ڈاکٹر شفیق الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-01-17
ڈھاکا (صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ترازو (دارِپلہ) کے نشان پر ووٹ دے کر ایک جدید، ترقی یافتہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنگلا دیش کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔جدید ٹیکنالوجی کی روشنی میں نوجوانوں کو عالمی معیار کا باصلاحیت انسانی سرمایہ بنایا جائے گا۔ بنگلا دیش کے زرخیز خطے برشال میں انصاف، عدل اور نجات کے حق میں زبردست عوامی بیداری پیدا ہو چکی ہے اور پورے ملک میں تبدیلی کے لیے عوامی سیلاب امڈ آیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 11 جماعتی انتخابی اتحاد اور باؤفل اپازلہ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ تاریخی پبلک گراؤنڈ باؤفل میں منعقد ہوا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ پورے بنگلا دیش میں انصاف، حق اور آزادی کے حق میں عوامی مدو جزر پیدا ہو چکا ہے اور عوام نئے اور پرانے فاشزم کو ’’لال کارڈ‘‘ دکھانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی طاقت کے ذریعے ایک نئے، منصفانہ اور انسانی بنگلا دیش کی بنیاد رکھی جائے گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ اگر عوام کی محبت سے جماعت اسلامی کو ریاستی نظم و نسق کی ذمے داری ملی تو آئندہ 5برس میں 26 بنیادی امور کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کا منشور 5 ’’ہاں‘‘ اور 5 ’’نہ‘‘ کے واضح وعدوں اور 26 بنیادی نکات پر مشتمل ہے، جس کا مقصد ایک محفوظ، شفاف اور انسانی بنگلا دیش کی تعمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف انتظامیہ، جوابدہی اور اچھی حکمرانی کے ذریعے ایک انصاف پر مبنی خوشحال بنگلا دیش قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ آئندہ انتخابات میں ترازو کے نشان پر ووٹ دے کر تبدیلی، سوشاسن اور انصاف کا ساتھ دیں اور آئیں مل کر ایک نئے بنگلا دیش کو تعمیر کریں۔
ڈھاکا: امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن بائو فل گرائونڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر شفیق الرحمن بنگلا دیش کی انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔