data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260207-08-15
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینئر ممبر ریونیو بورڈخالد حیدر شاہ نے کہا ہے کہ بورڈ آف ریونیو کسی طرح بھی کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی آباد کاری میں رکاوٹ نہیں ہم 265 ایکڑ زمین بہت پہلے کے ایم سی کے حوالے کر چکے ہیں جس کی حفاظت کرنا اور الاٹیز کو منتقل کر کے آباد کاری کرنا کے ایم سی کی ذمے داری تھی ان کی غفلت کا ملبہ ہمارے اوپر نہ گرایا جائے وہ جمعہ کو اپنے دفتر میں لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کے پٹیشنرز سے بات چیت کر رہے تھے یہ میٹنگ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عدنان اور جسٹس عبدالمبین لاکھو کے حکم پر منعقد کی گئی میٹنگ میں کے ایم سی کے لینڈ ڈائریکٹر اطہر نقوی اسسٹنٹ کمشنر ڈسٹرکٹ ملیر امیر اور لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے پٹیشنر اور آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے صدر محمود حامد، سینئر وائس چیئرمین محمد رضوان، وائس چیئرمین اقبال احمد، جنرل سیکرٹری ایوب خان، فنانس سیکرٹری اشرف علی ،شیخ محمد اسحاق اور سیکنڈ پٹیشنر نسرین ابو نصر محمد اقبال ایڈووکیٹ اور محمد عاقل موجود تھے۔ اس موقع پر سینئر ممبر ریونیو بورڈ خالد حیدر شاہ نے پٹیشنرز پر واضح کیا کہ ریونیو بورڈ لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی آباد کاری چاہتا ہے اسی لیے وہ لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کے ایم سی کے حوالے کر چکا ہے 15 ایکڑ زمین جو غلطی سے دوسری پارٹی کو ٹرانسفر ہو گئی تھی، میں اسے بھی کینسل کر رہا ہوں، میٹنگ میں اسمال ٹریڈرز کے صدر اور پٹیشنر محمود حامد نے الاٹیز کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کا مسئلہ 33 سال سے التوا کا شکار ہے یہ ایک انسانی مسئلہ ہے یہ اسکیم کے ایم سی نے بیروزگار نوجوانوں کے لیے اناؤنس کی تھی جس 25 سالہ نوجوان نے 1993 میں یہ پلاٹ خریدا تھا اس نوجوان کی عمر اب 68 سال ہو چکی ہے وہ جوان بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے اس بڑھاپے میں وہ کیا کرے گا اور کتنے ہی الاٹیز پلاٹوں کے انتظار میں اللہ کو پیارے ہو گئے اگر یہ انڈسٹریز مقررہ وقت پر آباد ہو جاتی تو اس میں 23 ہزار سے زاید لوگوں کو روزگار مل جاتا، ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری ہے ،کاٹیج انڈسٹریز میں روزگار سے لگے ہوئے لوگ ڈیڑھ سے دو لاکھ افرادکی کفالت کر رہے ہوتے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ریونیو بورڈ ہائی کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور کے حکم کے مطابق زمین کے سروے کی رپورٹ جلد از جلد ہائی کورٹ میں جمع کرا دے آپ کی باتوں سے ہمیں حوصلہ ملا ہے کاٹیج انڈسٹریز کی آباد کاری کے لیے آپ کے دو ٹوک اعلان سے امید کی نئی کرن روشن ہوئی ہے، اس موقع پر جنرل سیکرٹری ایوب خان نے تصاویر کی مدد سے سینئر ممبر ریونیو بورڈ کو لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کی تازہ ترین پوزیشن دکھائی، سینئر وائس چیئرمین محمد رضوان نے ممبر ریونیو بورڈ سے درخواست کی کہ وہ مظلوم الاٹیز کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کریں ،شیخ محمد اسحاق نے کہا کہ آپ کا تعاون ہزاروں لوگوں کے روزگار کا باعث بنے گا اور آپ کو ان مظلوموں کی دعائیں ملیں گی۔ سیکنڈ پٹیشنر نسرین ابو نصر نے اس موقع پر کے ایم سی کے افسران کی ہٹ دھرمی کرپشن اور غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا انہوں نے کہا لینڈ ڈائریکٹر کے ایم سی لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کی آباد کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اس موقع پر موجود الاٹیز نے خالد حیدر شاہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اپ کے دو ٹوک اعلان سے اب ہماری کاٹیج انڈسٹری کی آباد کاری میں بڑی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے واضح رہے کہ لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کی بحالی کے لیے پٹیشن نمبر 5909/21 محمود حامد اور محمد ایوب نے داخل کی ہے جبکہ دوسری پٹیشن نسرین ابو نصر نے داخل کی ہے اور تیسری پٹیشن محمد عاقل نے ہائی کورٹ میں داخل کی ہے سینئر ممبر ریونیو بورڈ کی یقین دہانی پر لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے الاٹیز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز ایکشن کمیٹی کی قیادت کی جدوجہد دانشمندانہ حکمت عملی کو سراہا ہے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سینئر ممبر ریونیو بورڈ انڈسٹریز کی ا باد کاری کے ایم سی کے انڈسٹریز کے کاری میں

پڑھیں:

اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست

اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔

سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ڈی ایس پی صدر رحیم یارخان معطل
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • کراچی: لانڈھی 89 کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکا، آگ بھرک اتھی
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم