ریونیو بورڈ لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کی آبادکاری میں رکاوٹ نہیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-08-15
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینئر ممبر ریونیو بورڈخالد حیدر شاہ نے کہا ہے کہ بورڈ آف ریونیو کسی طرح بھی کے ایم سی لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی آباد کاری میں رکاوٹ نہیں ہم 265 ایکڑ زمین بہت پہلے کے ایم سی کے حوالے کر چکے ہیں جس کی حفاظت کرنا اور الاٹیز کو منتقل کر کے آباد کاری کرنا کے ایم سی کی ذمے داری تھی ان کی غفلت کا ملبہ ہمارے اوپر نہ گرایا جائے وہ جمعہ کو اپنے دفتر میں لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کے پٹیشنرز سے بات چیت کر رہے تھے یہ میٹنگ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عدنان اور جسٹس عبدالمبین لاکھو کے حکم پر منعقد کی گئی میٹنگ میں کے ایم سی کے لینڈ ڈائریکٹر اطہر نقوی اسسٹنٹ کمشنر ڈسٹرکٹ ملیر امیر اور لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے پٹیشنر اور آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے صدر محمود حامد، سینئر وائس چیئرمین محمد رضوان، وائس چیئرمین اقبال احمد، جنرل سیکرٹری ایوب خان، فنانس سیکرٹری اشرف علی ،شیخ محمد اسحاق اور سیکنڈ پٹیشنر نسرین ابو نصر محمد اقبال ایڈووکیٹ اور محمد عاقل موجود تھے۔ اس موقع پر سینئر ممبر ریونیو بورڈ خالد حیدر شاہ نے پٹیشنرز پر واضح کیا کہ ریونیو بورڈ لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی آباد کاری چاہتا ہے اسی لیے وہ لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کے ایم سی کے حوالے کر چکا ہے 15 ایکڑ زمین جو غلطی سے دوسری پارٹی کو ٹرانسفر ہو گئی تھی، میں اسے بھی کینسل کر رہا ہوں، میٹنگ میں اسمال ٹریڈرز کے صدر اور پٹیشنر محمود حامد نے الاٹیز کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کا مسئلہ 33 سال سے التوا کا شکار ہے یہ ایک انسانی مسئلہ ہے یہ اسکیم کے ایم سی نے بیروزگار نوجوانوں کے لیے اناؤنس کی تھی جس 25 سالہ نوجوان نے 1993 میں یہ پلاٹ خریدا تھا اس نوجوان کی عمر اب 68 سال ہو چکی ہے وہ جوان بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے اس بڑھاپے میں وہ کیا کرے گا اور کتنے ہی الاٹیز پلاٹوں کے انتظار میں اللہ کو پیارے ہو گئے اگر یہ انڈسٹریز مقررہ وقت پر آباد ہو جاتی تو اس میں 23 ہزار سے زاید لوگوں کو روزگار مل جاتا، ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری ہے ،کاٹیج انڈسٹریز میں روزگار سے لگے ہوئے لوگ ڈیڑھ سے دو لاکھ افرادکی کفالت کر رہے ہوتے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ریونیو بورڈ ہائی کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور کے حکم کے مطابق زمین کے سروے کی رپورٹ جلد از جلد ہائی کورٹ میں جمع کرا دے آپ کی باتوں سے ہمیں حوصلہ ملا ہے کاٹیج انڈسٹریز کی آباد کاری کے لیے آپ کے دو ٹوک اعلان سے امید کی نئی کرن روشن ہوئی ہے، اس موقع پر جنرل سیکرٹری ایوب خان نے تصاویر کی مدد سے سینئر ممبر ریونیو بورڈ کو لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کی زمین کی تازہ ترین پوزیشن دکھائی، سینئر وائس چیئرمین محمد رضوان نے ممبر ریونیو بورڈ سے درخواست کی کہ وہ مظلوم الاٹیز کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کریں ،شیخ محمد اسحاق نے کہا کہ آپ کا تعاون ہزاروں لوگوں کے روزگار کا باعث بنے گا اور آپ کو ان مظلوموں کی دعائیں ملیں گی۔ سیکنڈ پٹیشنر نسرین ابو نصر نے اس موقع پر کے ایم سی کے افسران کی ہٹ دھرمی کرپشن اور غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا انہوں نے کہا لینڈ ڈائریکٹر کے ایم سی لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کی آباد کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اس موقع پر موجود الاٹیز نے خالد حیدر شاہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اپ کے دو ٹوک اعلان سے اب ہماری کاٹیج انڈسٹری کی آباد کاری میں بڑی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے واضح رہے کہ لانڈھی کایٹج انڈسٹریز کی بحالی کے لیے پٹیشن نمبر 5909/21 محمود حامد اور محمد ایوب نے داخل کی ہے جبکہ دوسری پٹیشن نسرین ابو نصر نے داخل کی ہے اور تیسری پٹیشن محمد عاقل نے ہائی کورٹ میں داخل کی ہے سینئر ممبر ریونیو بورڈ کی یقین دہانی پر لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے الاٹیز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز ایکشن کمیٹی کی قیادت کی جدوجہد دانشمندانہ حکمت عملی کو سراہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سینئر ممبر ریونیو بورڈ انڈسٹریز کی ا باد کاری کے ایم سی کے انڈسٹریز کے کاری میں
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔