چین کے ساتھ شراکت داری اور برآمدی کامیابیاں، پاکستان کی اقتصادی ترقی کا نیا باب
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اور اقتصادی تعاون نے ملکی معیشت کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے، جہاں برآمدات میں نمایاں اضافہ اور اہم شعبوں میں تاریخی سنگِ میل عبور کیے جا رہے ہیں۔
اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کی مؤثر حکمت عملی کے باعث پاکستان عالمی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے ثمرات مختلف صنعتی اور زرعی شعبوں میں واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
پاکستان کے فارماسیوٹیکل اور زرعی شعبوں نے حالیہ عرصے میں چین کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اسی سلسلے میں چینی زرعی ماہرین اور صنعت کے نمائندوں نے یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کا دورہ کیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان زرعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور پیداوار بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس دورے کو پاکستان کی زرعی ترقی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی زرعی وفد نے فارم ویلیو چین میں کاروباری شراکت داری اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے فروغ کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں کا مقصد پاکستان کی زرعی پیداوار کو جدید خطوط پر استوار کرنا، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تعاون سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی برآمدات کو بھی تقویت ملے گی۔ دوسری جانب پاکستان کی برآمدات کے اعداد و شمار بھی معیشت میں بہتری کی عکاسی کر رہے ہیں۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی چاول برآمدات 62 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جب کہ نمک کی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح فارماسیوٹیکل شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے اور 2025 کے دوران پاکستان کی فارما برآمدات 11 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات میں یہ اضافہ نہ صرف زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی خودانحصاری کے ہدف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی کے تحت کیے گئے عملی اقدامات کے باعث قومی معیشت کے کلیدی شعبوں میں تیز رفتار پیش رفت جاری ہے، جس سے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ میں بہتری آ رہی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کی رہا ہے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ