پاکستان اور سعودی عرب کے اسٹریٹجک دفاعی تعلقات میں ایک اور تاریخی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
ریاض(نیوز ڈیسک)سعودی عرب میں ہونے والے ورلڈ ڈیفنس شو میں آئیڈیاز 2026 کی اسپیس لانچ کی جائیگی جسکا انعقاد پاکستان میں نومبر2026 میں کیا جائیگا۔
ورلڈ ڈیفنس شو (ڈبلیو ڈی ایس) 2026 ، ریاض میں 8 تا 12 فروری 2026 کو منعقد کی جا ئیگی
ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں بین الاقوامی ممالک اپنی جدید فوجی ٹیکنالوجی اور ہتھیار پیش کرینگے
ڈبلیو ڈی ایس میں آئیڈیاز 2026 کا اسپیس لانچ ٹیکنالوجی منتقلی اور دفاعی مشترکہ منصوبوں کے فروغ کے عزم کی عکاسی کریگا
دفاعی نمائشوں اور عالمی روابط کے فروغ میں ڈیفینس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن کا مؤثر کردار پاکستان کے بڑھتے بین الاقوامی دفاعی وقار کو مزید مستحکم کر رہا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔