راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپارکو نے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا، خلائی پروگرام کے لیے امیدواروں کا انتخاب مکمل کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاک آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ سپارکو نے خلا باز امیدواروں کے انتخاب کے دوسرے مرحلے کو کامیابی سے مکمل کر لیا ہے، پاکستان میں ابتدائی سکریننگ کے بعد دو امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے، جنہوں نے چین کے آسٹروناٹس سینٹر (ACC) میں بین الاقوامی انسانی خلائی پرواز کے معیارات کے مطابق جامع طبی، نفسیاتی اور صلاحیتی جائزے مکمل کیے۔

سنگاپور کی 71 سالہ خاتون کو جنگلی کبوتروں کو خوراک ڈالنے کی عادت مہنگی پڑ گئی

شارٹ لسٹ کیے گئے امیدوار چین کے آسٹروناٹس سینٹر میں چھ ماہ تک جدید خلا باز تربیت حاصل کریں گے، تربیت مکمل ہونے کے بعد ایک امیدوار کو اکتوبر / نومبر 2026 میں چینی خلائی سٹیشن پر خلائی مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

پاکستان اور چین میں تعاون فروری 2025 میں دستخط کیے گئے دو طرفہ آسٹروناٹ تعاون معاہدے کے تحت ہو رہا ہے، جو وزیر اعظم پاکستان کی قیادت میں طے پایا، جن کے وژن اور تعاون نے پاکستان کی انسانی خلائی پرواز میں شمولیت کو ممکن بنایا۔

یہ تاریخی اقدام عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کی مضبوط حمایت کا بھی عکاس ہے، جس نے اپنے خلا باز پروگرام میں پاکستان کو پہلے غیر ملکی شراکت دار کے طور پر منتخب کیا ہے۔

چاہت فتح علی خان بسنت منانے لاہور پہنچ گئے، پتنگ اٹھا کر ڈانس کی ویڈیو وائرل

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ