کراچی ائیرپورٹ پر غیراخلاقی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، دو خواتین گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
ایف آئی اے امیگریشن نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے غیراخلاقی نیٹ ورک سے منسلک خاتون سمیت دو خواتین کو گرفتار کر لیا۔
دونوں خواتین دبئی روانگی کے لیے امیگریشن کلیئرنس کے مرحلے میں تھیں، جہاں شبہ ہونے پر انہیں آف لوڈ کیا گیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران خواتین نے سیاحتی ویزے کی آڑ میں بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے کا اعتراف کیا۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے تفتیش کے دوران غیراخلاقی نیٹ ورک سے وابستگی کا بھی انکشاف کیا، جس پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ خواتین کے سفری انتظامات کرنے والے مرکزی ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم کے قبضے سے متعدد موبائل فونز برآمد ہوئے ہیں جن میں واٹس ایپ چیٹس اور وائس نوٹس موجود ہیں، جو انسانی اسمگلنگ اور غیراخلاقی سرگرمیوں کے شواہد سمجھے جا رہے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار خواتین اور مرکزی ملزم کو انسانی اسمگلنگ کے مقدمے میں اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نیٹ ورک
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔