اسلام آباد: جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر ایمان مزاری کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر ایمان مزاری کو انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پیش نہ کیا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، پولیس کیجانب سے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ایمان مزاری اور ہادی علی کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا۔
عدالت نے ایمان مزاری کو آئندہ سماعت پر بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم دے دیا، ایمان مزاری ودیگر کیخلاف پولیس کیساتھ لڑائی جھگڑے اور تشدد کا الزام ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی حد تک سماعت 19 فروری تک ملتوی کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔