WE News:
2026-06-02@23:42:40 GMT

اسلام آباد سانحہ اور قومی بے حسی

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا یہ قول کہ جب کسی معاشرے کا سرمایہ اور توجہ جنگوں میں جھونک دی جائے تو تعلیم، صحت اور انسانی اقدار پسِ پشت چلی جاتی ہیں، آج کے پاکستان کی ایک تلخ مگر سچی تصویر پیش کرتا ہے۔ مسلسل تشدد، دھماکوں اور خونریزی کے ماحول نے ہمارے اجتماعی شعور کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ انسانی دکھ اور تکلیف اب ہماری روزمرہ زندگی کا ایک معمول بن کر رہ گیا ہے۔

پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی، داخلی بدامنی اور سیاسی کشمکش کا شکار رہا ہے۔ اس مسلسل عدم استحکام نے قوم کو نفسیاتی طور پر اس قدر تھکا دیا ہے کہ لوگ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔ شہادتوں کی خبریں اب صرف چند لمحوں کی افسوسناک سرخیاں بن کر رہ جاتی ہیں، جنہیں دیکھ کر لوگ اگلے ہی لمحے اپنی معمول کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

یہ بے حسی صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور تہذیبی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جب معاشرے میں تشدد معمول بن جائے تو انسان اپنی بقا کے لیے خود کو جذباتی طور پر محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کا نتیجہ دوسروں کے دکھ سے لاتعلقی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں اجتماعی غم اور خوشی کا تصور کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں اس بے حسی کے پیچھے ایک بڑی وجہ حکومتی اور سماجی ترجیحات کا عدم توازن بھی ہے۔ جب وسائل تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے بجائے سیکیورٹی اور بحرانوں سے نمٹنے پر صرف ہوں تو معاشرہ فکری اور اخلاقی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں ترقی پسند سوچ کی جگہ شدت پسندی اور تنگ نظری کو فروغ ملتا ہے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی اس صورتحال کو کسی حد تک پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مسلسل منفی خبروں کی بھرمار نے عوام کو ذہنی طور پر سن کر دیا ہے۔ لوگ ایک دھماکے یا سانحے کی خبر سن کر وقتی ردعمل تو دیتے ہیں مگر جلد ہی نئی خبروں کی بھیڑ میں وہ سانحہ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے، جس سے اجتماعی ہمدردی کا جذبہ مزید کمزور ہو جاتا ہے۔

معاشرتی سطح پر بڑھتی ہوئی خود غرضی بھی اس بے حسی کو تقویت دے رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ نے لوگوں کو اپنی ذاتی بقا کی جنگ میں اس قدر الجھا دیا ہے کہ دوسروں کے دکھ درد کے لیے ان کے پاس نہ وقت بچا ہے اور نہ ہی جذباتی توانائی۔ یہ صورتحال معاشرتی رشتوں کو کمزور اور اجتماعی شعور کو مفلوج کررہی ہے۔

تعلیم کا فقدان بھی اس مسئلے کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ ایک ایسا تعلیمی نظام جو طلبہ میں انسان دوستی، برداشت اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا نہ کر سکے، وہ معاشرے کو صرف ڈگری یافتہ افراد تو دے سکتا ہے مگر باشعور شہری نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں علم تو بڑھ رہا ہے مگر شعور اور حساسیت کم ہوتی جا رہی ہے۔

اس بے حسی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور معاشرہ اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کریں۔ تعلیم، ذہنی صحت، سماجی انصاف اور انسانی اقدار کو فروغ دیے بغیر ہم ایک متوازن اور حساس معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ ہمیں ایسے بیانیے کو فروغ دینا ہوگا جو انسان کو انسان کے قریب لائے اور اجتماعی دکھ کو مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھنے کا شعور پیدا کرے۔

اگر پاکستانی قوم نے اس بڑھتی ہوئی بے حسی کا بروقت ادراک نہ کیا تو یہ رجحان معاشرتی ٹوٹ پھوٹ اور اخلاقی زوال کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ ہمیں بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف سانحات کے عادی بن کر جینا چاہتے ہیں یا ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں جہاں ہر انسان دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر اس کے ازالے کے لیے کھڑا ہو۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اظہر لغاری

wenews اسلام آباد سانحہ تعلیم جنگ حکومت دہشتگردی معاشرہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد سانحہ تعلیم حکومت دہشتگردی وی نیوز کے لیے دیا ہے کے دکھ

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے