کیا ڈارک میٹر واقعی موجود ہے؟ نئی تھیوری میں کشش ثقل کی غیر معمولی حرکت کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
حالیہ تحقیق کے مطابق ڈارک میٹر کائنات کا سب سے پہیلی نما مادہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ فزکس دانوں کے لیے ایک مسئلہ رہا ہے، حالانکہ یہ عام مادے کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ موجود ہے، یہ اب تک نظر نہیں آتا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب: العُلا کے مزید قدرتی ذخائر کو ڈارک اسکائی کا عالمی اعزاز حاصل
سائنسدان ڈارک میٹر بنانے والے ذرات کی تلاش میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے کمار نے Phys.
سائنسدانوں نے ڈارک میٹر کی موجودگی اس لیے ظاہر کی کیونکہ یہ روشنی کے ساتھ براہ راست تعامل نہیں کرتا بلکہ اس کے کششی اثرات کے ذریعے محسوس ہوتا ہے۔
دراصل ڈارک میٹر کا پہلا اشارہ اس مشاہدے سے ملا کہ کہکشائیں متوقع سے کہیں زیادہ تیزی سے گھوم رہی تھیں، اتنی تیزی سے کہ صرف ان کے مرئی مادے کی کشش ثقل انہیں اکٹھا رکھنے کے لیے کافی نہیں تھی۔
اگرچہ ڈارک میٹر کائنات میں موجود مادے کا تقریباً 85 فیصد حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اسے ہمارے کائناتی ماڈلز سے ہٹانا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ہر سیکنڈ میں ایک اسمارٹ فون تیار کرنے والی’ڈارک فیکٹری‘ کی اہم بات کیا ہے؟
نئی تحقیق کا مقصد ڈارک میٹر کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ کشش ثقل کی پوشیدہ پیچیدگی کو اجاگر کرتی ہے اور یہ تجویز دیتی ہے کہ جو کچھ ہم ڈارک میٹر کے طور پر سمجھتے ہیں، وہ اصل میں کشش ثقل کی غیر معمولی حرکت سے پیدا ہو رہا ہے یا ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ڈارک میٹر فزکس دان کشش ثقل وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈارک میٹر وی نیوز ڈارک میٹر کا کے لیے
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔