روس کے سونے کے ذخائر نے ریکارڈ توڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
روس کے سونے کے ذخائر کی قیمت اب پہلی بار 400 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ملک کے مرکزی بینک کے مطابق 1 فروری تک روس کے سونے کی کل مالیت 402.7 ارب ڈالر تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کسٹمز کی کراچی ائیرپورٹ پر بڑی کارروائی، سونا اور قیمتی سامان برآمد
سونے کی یہ مالیت روس کے کل ذخائر کا تقریباً 48 فیصد بنتی ہے، جو اب تقریباً غیر ملکی کرنسی کے برابر ہو گئی ہے۔
سونے کی قیمت میں حالیہ زبردست اضافہ اس ریکارڈ کا سبب ہے۔ جنوری میں عالمی سطح پر سونے کی فی اونس قیمت 5,595 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں سونے کی قیمت میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ مرکزی بینکوں کی طلب، عالمی سیاسی کشیدگی، مہنگائی اور امریکی ڈالر کی قدر کم ہونے کی وجہ سے ہوا۔
????BREAKING NEWS
Russia's gold reserves have exceeded $400 billion for the first time in history, the Central Bank of Russia announced.
— Aleksey Berezutski ???????????? (@aleksbrz11) February 6, 2026
روس کے ذخائر میں سونے کی حصہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ یوکرین جنگ سے پہلے سونے کا حصہ 21 فیصد تھا، لیکن اب یہ 48 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اسی دوران غیر ملکی کرنسی کی حصہ داری کم ہو کر 74 فیصد سے نیچے آ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چاندی کی بڑھتی قیمت، کیا چاندی سونے کی جگہ لے رہی ہے؟
سونے کی قیمت میں یہ اضافہ روس کو مغربی ممالک میں منجمد کیے گئے اپنے کچھ مالی نقصانات پورے کرنے میں مدد دے رہا ہے۔
مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق سونے کی اصل مقدار گزشتہ چند سالوں میں زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ مارچ 2022 میں ملک کے پاس 73.9 ملین اونس سونا تھا، جو جنوری 2026 میں تھوڑا بڑھ کر 74.8 ملین اونس ہو گیا۔
روس نے 2022 کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کو سونے کے لین دین کی تفصیلات دینا بند کر دی ہیں، اور صرف کل ذخائر کی رپورٹ دیتا ہے۔ اس لیے حالیہ اضافہ زیادہ تر عالمی سونے کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ہوا ہے، نہ کہ ذخائر کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
روس سونا سونے کے ذخائر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سونے کے ذخائر سونے کی قیمت کے ذخائر سونے کے روس کے گئی ہے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔