’ٹائم ہوپرز: دی سلک روڈ‘ پہلی مسلم اینیمیٹڈ فلم نے ریکارڈ قائم کردیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
ٹائم ٹریول، ایکشن اور سسپنس سے بھرپور اینیمیٹڈ فلم ’ٹائم ہوپرز: دی سلک روڈ‘ آج سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے، جس نے ریلیز سے قبل ہی نمایاں توجہ حاصل کر لی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کے پری سیلز میں 35 ہزار سے زائد ٹکٹس فروخت ہو چکے ہیں، جسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ دراصل مسلم بچوں کے لیے بننے والی ایک سادہ ویب اینی میشن سے شروع ہوا تھا، جو اب ایک مکمل فیملی فلم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ فلم میں تاریخِ اسلام کے درخشاں دور کے نامور سائنسدان اور مفکر محمد بن موسٰی الخوارزمی سمیت دیگر شخصیات کے کرداروں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
کہانی چار باصلاحیت بچوں کے گرد گھومتی ہے جو سن 2050 سے تعلق رکھتے ہیں اور وقت میں سفر کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت دریافت کرنے کے بعد قدیم سلک روڈ کے دور میں جا پہنچتے ہیں۔ وہاں وہ ایک شیطانی کیمیاگر سے عظیم سائنس دانوں کو بچانے کے مشن پر نکلتے ہیں۔
میلو پروڈکشنز کے چیف آپریٹنگ آفیسر گیبریل میلو کے مطابق اس منصوبے کی بنیاد ایک موبائل گیم سے رکھی گئی تھی جسے کینیڈا کے گرانٹس سے فنڈ کیا گیا، اور صرف تین ماہ میں اسے ایک لاکھ سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔ ان کے بقول اس کامیابی نے ثابت کیا کہ مسلم ناظرین کے لیے بامعنی مواد کی مضبوط طلب موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔