کراچی میں پولیو ٹیم کی خاتون ورکر کو کتے نے کاٹ لیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:کراچی میں آوارہ کتوں کی بہتات نے شہریوں کا جینا حرام کردیا ہے، تازہ واقعے میں پولیس ٹیم کی خاتون ورکر کو آوارہ کتے نے کاٹ لیا۔
کراچی میں کتوں کی بہتات نے شہریوں کے زندگی مشکلات میں ڈال دی،کورنگی زمان ٹاﺅن میں پولیوٹیم کی خاتون ورکرآوارہ کتے کے کاٹنے سے زخمی ہوگئی۔
خاتون ورکر کوپولیو مہم کے دوران آوارہ کتے نے اپناشکاربنایا،زخمی پولیوورکرکوفوری طور پر انڈس اسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی کتے کے کاٹنے سے گلشن معمار کا رہائشی 42 سالہ شخص انتقال کر گیا تھا۔
شہر بھر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد خطرے کا سبب بن گئی ہے،رواں سال کے دوران کراچی کے 5 بڑے اسپتالوں میں5ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔سب سے زیادہ کیسز انڈس اسپتال میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 1800 ہے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔