"محمد دیپک تنازعہ" اب صرف ریاستی مسئلہ نہیں بلکہ قومی مسئلہ بن گیا ہے، پارلیمنٹ میں بھی بحث
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
دکان کے نام کے تنازعہ اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی منصفانہ اور مکمل تحقیقات کرنے کیلئے، ایس ایس پی پوڑی سرویش پنوار نے پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوٹ دوار "بابا" دکان کا تنازع اب صرف ریاستی مسئلہ نہیں بلکہ قومی مسئلہ بن گیا ہے۔ 26 جنوری کو دکان کا نام تبدیل کرنے پر جو بظاہر معمولی تنازعہ شروع ہوا تھا اب اس نے قومی فرقہ وارانہ اور سیاسی جہت اختیار کر لی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت کو اب اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینا پڑی ہے۔ ایس آئی ٹی اب پورے معاملے کی جانچ کرے گی۔ کوٹ دوار میں "بابا" کے نام سے اسکول یونیفارم کی دکان ہے۔ 26 جنوری کو کچھ ہندو انتہا پسند تنظیمیں دکان پر پہنچیں اور مسلمان دکان کے مالک سے نام بدلنے کو کہا۔ اسی بحث کے درمیان ایک آدمی آیا اور کہا کہ نام نہیں بدلا جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کا ہندوتوا تنظیم کے کارکنوں سے جھگڑا ہوا۔
جب ہندوتوا تنظیم کے کارکنوں نے اس شخص سے نام پوچھا تو انہوں نے اپنا نام "محمد دیپک" بتایا۔ دونوں فریقین میں گرما گرم بحث ہوئی۔ شروع میں تو یہ بحث نارمل لگ رہی تھی، لیکن یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زور پکڑتا گیا، بھارت بھر میں پھیل گیا۔ معلوم ہوا کہ نوجوان کا نام "دیپک کمار" تھا، جس نے بزرگ مسلمان دکاندار کی مدد کے لئے اپنے نام کے ساتھ "محمد" کا اضافہ کیا تھا۔ اس وقت تک حالات ٹھیک تھے، لیکن 31 جنوری کو حالات نے اس وقت مزید خرابی اختیار کر لی جب دہرادون اور ہریدوار سے وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنان اور عہدیدار کوٹ دوار پہنچے۔ انہوں نے دیپک کے ورزش گاہ کے قریب احتجاج کیا جس سے علاقے میں تناؤ کا ماحول بن گیا۔ موقع پر تعینات پولیس نے صورتحال پر قابو پالیا اور مظاہرین کو منتشر کیا۔
اس دوران سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور لائیو نشریات نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ اس کے بعد دیپک کمار کی حمایت میں اترپردیش اور میدانی علاقوں سمیت مختلف تنظیموں کے لوگ کوٹ دوار پہنچنے لگے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹس، ویڈیوز اور بیانات گردش کرنے لگے، جس سے شہر میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اس کے بعد پولیس نے کوٹ دوار میں داخل ہونے اور جانے والے لوگوں کی شناخت شروع کردی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے فوری طور پر اترپردیش اور اتراکھنڈ کی سرحدوں پر اضافی پولیس دستے تعینات کر دیئے۔ کوٹ دوار میں کاودیا چیک پوسٹ سمیت دیگر اہم داخلی مقامات پر سخت چیکنگ شروع کی گئی۔ پولیس نے باہر کے لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعات کو روکنے پر توجہ دی۔
دکان کے نام کے تنازعہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی منصفانہ اور مکمل تحقیقات کرنے کے لئے ایس ایس پی پوڑی سرویش پنوار نے پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم سرکل آفیسر تشار بورا کو سونپی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی میں سینئر سب انسپکٹر انیل چوہان، سب انسپکٹر ونود کمار، کملیش شرما اور دنیش چمولی کو شامل کیا گیا ہے۔ ٹیم کا کام صرف جائے وقوعہ کی چھان بین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل مواد، باہری تنظیموں کے کردار، اشتعال انگیز بیان بازی اور ان تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لے گی جو امن و امان کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ایس آئی ٹی کوٹ دوار
پڑھیں:
پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔