دکان کے نام کے تنازعہ اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی منصفانہ اور مکمل تحقیقات کرنے کیلئے، ایس ایس پی پوڑی سرویش پنوار نے پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوٹ دوار "بابا" دکان کا تنازع اب صرف ریاستی مسئلہ نہیں بلکہ قومی مسئلہ بن گیا ہے۔ 26 جنوری کو دکان کا نام تبدیل کرنے پر جو بظاہر معمولی تنازعہ شروع ہوا تھا اب اس نے قومی فرقہ وارانہ اور سیاسی جہت اختیار کر لی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت کو اب اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینا پڑی ہے۔ ایس آئی ٹی اب پورے معاملے کی جانچ کرے گی۔ کوٹ دوار میں "بابا" کے نام سے اسکول یونیفارم کی دکان ہے۔ 26 جنوری کو کچھ ہندو انتہا پسند تنظیمیں دکان پر پہنچیں اور مسلمان دکان کے مالک سے نام بدلنے کو کہا۔ اسی بحث کے درمیان ایک آدمی آیا اور کہا کہ نام نہیں بدلا جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کا ہندوتوا تنظیم کے کارکنوں سے جھگڑا ہوا۔

جب ہندوتوا تنظیم کے کارکنوں نے اس شخص سے نام پوچھا تو انہوں نے اپنا نام "محمد دیپک" بتایا۔ دونوں فریقین میں گرما گرم بحث ہوئی۔ شروع میں تو یہ بحث نارمل لگ رہی تھی، لیکن یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زور پکڑتا گیا، بھارت بھر میں پھیل گیا۔ معلوم ہوا کہ نوجوان کا نام "دیپک کمار" تھا، جس نے بزرگ مسلمان دکاندار کی مدد کے لئے اپنے نام کے ساتھ "محمد" کا اضافہ کیا تھا۔ اس وقت تک حالات ٹھیک تھے، لیکن 31 جنوری کو حالات نے اس وقت مزید خرابی اختیار کر لی جب دہرادون اور ہریدوار سے وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنان اور عہدیدار کوٹ دوار پہنچے۔ انہوں نے دیپک کے ورزش گاہ کے قریب احتجاج کیا جس سے علاقے میں تناؤ کا ماحول بن گیا۔ موقع پر تعینات پولیس نے صورتحال پر قابو پالیا اور مظاہرین کو منتشر کیا۔

اس دوران سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور لائیو نشریات نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ اس کے بعد دیپک کمار کی حمایت میں اترپردیش اور میدانی علاقوں سمیت مختلف تنظیموں کے لوگ کوٹ دوار پہنچنے لگے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹس، ویڈیوز اور بیانات گردش کرنے لگے، جس سے شہر میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اس کے بعد پولیس نے کوٹ دوار میں داخل ہونے اور جانے والے لوگوں کی شناخت شروع کردی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے فوری طور پر اترپردیش اور اتراکھنڈ کی سرحدوں پر اضافی پولیس دستے تعینات کر دیئے۔ کوٹ دوار میں کاودیا چیک پوسٹ سمیت دیگر اہم داخلی مقامات پر سخت چیکنگ شروع کی گئی۔ پولیس نے باہر کے لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعات کو روکنے پر توجہ دی۔

دکان کے نام کے تنازعہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی منصفانہ اور مکمل تحقیقات کرنے کے لئے ایس ایس پی پوڑی سرویش پنوار نے پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم سرکل آفیسر تشار بورا کو سونپی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی میں سینئر سب انسپکٹر انیل چوہان، سب انسپکٹر ونود کمار، کملیش شرما اور دنیش چمولی کو شامل کیا گیا ہے۔ ٹیم کا کام صرف جائے وقوعہ کی چھان بین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل مواد، باہری تنظیموں کے کردار، اشتعال انگیز بیان بازی اور ان تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لے گی جو امن و امان کو متاثر کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ایس آئی ٹی کوٹ دوار

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد