غیر یقینی صورتحال معیشت کی راہ میں رکاوٹ، اسد عمر
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت اس وقت ترقی نہیں کر سکتی جب حکومت اور اداروں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ توانائی کے شعبے میں کوئی بھی قدم حکومت کی منظوری کے بغیر نہیں اٹھایا جا سکتا، اور گیس و بجلی میں کسی ایک کمپنی یا ادارے کی اجارہ داری معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسد عمر نے کے الیکٹرک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کی نجکاری 20 سال قبل ہوئی تھی، لیکن اس کے باوجود اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صنعتی ڈھانچے کو جدید نہیں بنایا گیا تو ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف خیالات رکھنے والے افراد جہاں موجود ہوں، وہاں جمہوری نظام کے بغیر ملک کا نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ اسد عمر نے ایکسپورٹ کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف گارمنٹس کی مصنوعات برآمد کر کے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، بلکہ پاکستان کو دنیا کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق پروڈکشن کی سمت اختیار کرنی ہوگی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ 1960 کی صنعتی بنیادوں کے ساتھ 2025 میں ملک کی ترقی ممکن نہیں، اور موجودہ پیداوار دنیا کی طلب کے مطابق نہیں ہے، جس کی وجہ سے معیشت ترقی کی رفتار پکڑ نہیں سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔