WE News:
2026-07-24@01:23:51 GMT

25 برس بعد بسنت کا رنگ، اسلام آباد سانحے نے ماحول بدل دیا

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

لاہور میں 25 برس بعد بسنت کی واپسی ایک تاریخی لمحہ تھی۔ یہ وہ تہوار ہے جو اس شہر کی رگوں میں دوڑتا ہے اور جس کے ساتھ رنگ، موسیقی، دھول، گیت اور اجتماعی خوشی جڑی ہوئی ہے۔ پہلے روز آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں، گلیوں میں بچوں کی آوازیں، چھتوں پر خاندانوں کی رونق اور ڈھول کی تھاپ نے یہ احساس دلایا کہ لاہور نے ایک بار پھر خود کو پہچان لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور میں بسنت کی رونقیں عروج پر، نواز شریف بھی ڈور اور گڈا پکڑے جشن میں شریک ہوئے

حکومتِ پنجاب کی جانب سے بھی بسنت منانے کے لیے بڑے پیمانے پر تقریبات کا اعلان کیا گیا تھا۔ لبرٹی چوک میں میگا شو، سرکاری کالجز اور یونیورسٹیوں میں ایونٹس شیڈول تھے اور شہر مکمل طور پر تہوار کے موڈ میں نظر آ رہا تھا۔

اسلام آباد دھماکا، خوشیوں پر اداسی کا سایہ

اسی دوران جمعے کی دوپہر اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کالاں میں واقع شیعہ امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ شہدا اور زخمیوں کی خبروں نے خوشیوں کے اس ماحول کو گہری اداسی میں بدل دیا۔

لاہور میں شہری بسنت منانے میں مصروف pic.

twitter.com/3KFvWkFUta

— WE News (@WENewsPk) February 7, 2026

لاہور جو کچھ لمحے پہلے قہقہوں سے گونج رہا تھا، اچانک سنجیدہ اور خاموش ہو گیا۔ بسنت کی خوشی ختم نہیں ہوئی، مگر اس کا رنگ ضرور بدل گیا۔

حکومتی ردِعمل، سرکاری تقریبات منسوخ

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سانحے کے بعد ایکس (ٹوئٹر) پر اعلان کیا کہ اسلام آباد واقعے کے پیشِ نظر بسنت سے متعلق تمام سرکاری سرگرمیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد سانحہ: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت سے متعلق اپنی تقریبات منسوخ کردیں

ان کے مطابق قومی سانحے پر یکجہتی کے اظہار کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ لبرٹی چوک پر ہونے والا میگا بسنت شو منسوخ کر دیا گیا، جبکہ سرکاری کالجز اور یونیورسٹیوں میں ہونے والی تمام تقریبات بھی روک دی گئیں۔

مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا کہ قوم خوارجی فتنے اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف متحد رہے، ایسے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور ملک کے دفاع کے لیے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا پیغام پاکستان زندہ باد کے نعرے پر اختتام پذیر ہوا۔

بسنت جاری مگر سادگی کے ساتھ

آج بسنت کا دوسرا روز ہے اور تہوار اب بھی جاری ہے، مگر پہلے دن جیسی گہماگہمی کے بغیر۔ لاہور میں اب نہ کوئی بڑے اسٹیج ہیں، نہ اونچی آواز میں موسیقی اور نہ ہی سرکاری تقریبات۔ اس کے باوجود اندرونِ لاہور، پرانی آبادیوں، گھروں اور پلازوں کی چھتوں پر لوگ خاموشی اور سادگی کے ساتھ بسنت منا رہے ہیں۔

پتنگیں اب بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، مگر ان کے پیچھے وہی جوش نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور ذمہ دار احساس شامل ہے۔

18 سال بعد بسنت کا فیسٹیول بحال ہوا ہے، بسنت کو انجوئے کررہے ہیں ، مریم نواز نے بہت اچھے انتظامات کیے ، ہم نے بھی 2018 میں بسنت منانے کی اجازت دی تھی عمران خان کی بڑی خواہش تھی کہ ہم اس تہوار کو منائیں ، لیکن اس وقت پنجاب حکومت اس حوالے سے کوئی انتظامات نہیں کرسکی ،فواد چوہدری pic.twitter.com/QmujOzfXNY

— WE News (@WENewsPk) February 7, 2026

یہ بسنت خوشی اور غم کے امتزاج کی علامت بن چکی ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ زندگی رکتی نہیں اور تہوار بھی چلتے رہتے ہیں، مگر قومی سانحے کے موقع پر احساس اور ذمہ داری ضروری ہوتی ہے۔ اسی لیے لاہور آج بسنت منا بھی رہا ہے اور ملک کے دکھ میں برابر کا شریک بھی ہے۔

یہ بسنت شاید شور و ہنگامے کی نہیں، بلکہ شعور، یکجہتی اور احساس کی بسنت ہے، جو آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد دھماکا بسنت ترلائی دھماکا حکومت پنجاب لاہور مریم نواز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام آباد دھماکا ترلائی دھماکا حکومت پنجاب لاہور مریم نواز اسلام آباد لاہور میں مریم نواز کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم