Express News:
2026-07-24@02:22:52 GMT

کیا پاکستان میں ڈمی مدارس اور دینی بورڈز ہیں؟ ( دوسرا حصہ)

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

حالانکہ اسی دور میں پاکستان کے دیگر بڑے اور معروف دینی ادارے بھی موجود تھے، لیکن ان اداروں کو اس مرحلے پر براہ راست منظوری کیوں نہ مل سکی، یا انھوں نے اس سمت میں پیش رفت کیوں نہ کی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اپنی جگہ گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے، تاہم تحریرکی طوالت کے پیش نظر اس پر مزید گفتگو فی الحال مناسب نہیں۔
چند برس بعد یہی سلسلہ مزید وسعت اختیارکرتا ہے۔ تقریباً پانچ سال بعد جماعت اسلامی کے امیر پاکستان کی جانب سے جنرل ضیا الحق کو ارسال کی گئی درخواست کے نتیجے میں 12 اگست 1987 کو دینی مدرسہ بورڈ ’’رابطۃ المدارس الاسلامیہ‘‘ کو بھی سرکاری فہرست میں منظوری حاصل ہوئی اور یوں یہ وفاق بھی UGC کی فہرست میں شامل ہوگیا۔

اس طرح پانچ دینی وفاقات ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت سرکاری دائرہ کار میں آچکے تھے۔ بعد ازاں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں 27 اپریل 1992کو ڈاکٹر طاہر القادری کا ادارہ جامعہ اسلامیہ ’’ منہاج القرآن لاہور‘‘ کو بھی اسی سرکاری فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

تاہم زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ رہے۔ ان پانچ معروف وفاقات کے اندر بھی مختلف علاقوں، خصوصاً مردان، چارسدہ، پشاور، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے بعض حصوں کے مدارس کی جانب سے اپنے ہی وفاق کے نصابی، امتحانی اور انتظامی امور پر تحفظات سامنے آتے رہے۔

انھی خدشات کے باعث بعض مدارس خاموشی سے وفاق المدارس العربیہ سے الگ ہو کر ایک غیر اعلانیہ وفاق ’’ اتحاد المدارس‘‘ میں شامل ہوتے چلے گئے۔ اسی طرح دعوت و تبلیغ کے مرکز سے وابستہ پنجاب کے مدارس اور پنج پیر صوابی میں جامعہ الامام محمد طاہر پنج پیر کے بھی ہزاروں مکاتیب اور مدارس بھی کبھی وفاق المدارس العربیہ کا حصہ نہ بنے اور ابتدا سے ہی اپنا علیحدہ نظم قائم رکھا تھا جو اب تک جاری و ساری ہے۔

دوسری طرف جامعہ غوثیہ بھیرہ شریف بھی علیحدہ سے اپنا تعلیمی امتحانی نظام چلاتی رہی، جب کہ وفاق المدارس السلفیہ سے الگ ہوکر ’’جماعۃ دعوہ‘‘ کے مدارس بھی اپنے نظم میں فعال رہے۔ اسی طرح تنظیم المدارس اور وفاق الشیعہ کے بھی بعض مدارس میں علیحدگی کے رجحانات پائے جاتے تھے۔

یہاں تک کہ جماعت اسلامی ’’ رابطۃ المدارس‘‘ کے بھی چند مدارس پر مشتمل ’’سید مودودی انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے نام سے علیحدہ ہو کر 2001 میں پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے الحاق بھی کیا تھا۔

یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پانچ معروف وفاقات کے علاوہ بھی پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں مکاتیب اور مدارس مختلف سطحوں پر منظم انداز سے اپنا تعلیمی نظام پہلے سے چلا رہے تھے۔

جب کہ ان پانچ معروف وفاقات کے اندر رہتے ہوئے بھی، ان کے اپنے کچھ مدارس اپنے ہی وفاق کی پالیسیوں سے اختلاف ضرور رکھتے تھے، مگر نظم وضبط اور اجتماعی وابستگی کے باعث خاموشی اختیارکیے رہے۔ جس کے نتائج آگے چل کر واضح ہوئے۔

یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ تقریباً ہرحکومت نے دینی مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی، تاکہ انھیں قانونی طور پر قومی تعلیمی اعداد و شمار کا حصہ بنایا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت 2005، 2010، 2016 اور 2019 میں پانچ معروف وفاقات کے ساتھ مختلف تحریری معاہدات بھی پائے جاتے رہے۔

تاہم کبھی حکومتی پالیسیوں کی کمزوری اور لاعلمی غالب رہی اور کبھی دینی وفاقات کی جانب سے بعض اہم وجوہ کے باعث معاہدات اپنی اصل روح کے مطابق مکمل نافذ نہ ہو سکے۔

البتہ تمام معاہدات کے ضمن میں ایک مثبت پیش رفت یہ ضرور ہوتی رہی کہ مدارس کے ابتدائی درجات میں عصری علوم کا آغاز کردیا گیا اور میٹرک تک کی تعلیم پر عمل درآمد شروع ہوا، جو دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا سکتا ہے۔

جب کہ ماضی بعید میں بعض اہل علم کی جانب سے مدارس میں دینی علوم کے ساتھ، عصری علوم کی آمیزش کو خدشات کا باعث اور غیر متوازن بھی قرار دیا جاتا رہا تھا۔

یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ مرحوم ڈاکٹر محمود احمد غازی کی علمی بصیرت اور سنجیدہ کاوشوں کے نتیجے میں حکومتی سطح پر ’’ پاکستان مدرسہ ایجو کیشن بورڈ‘‘ کا قیام عمل میں آیا، جس میں ملک کے پانچوں معروف دینی وفاقات کی نمائندگی کو بھی شامل رکھا گیا تھا۔

اس بورڈ کا بنیادی مقصد مدارس اور ریاست کے درمیان ایک منظم، باوقار اور قابل قبول رابطہ قائم کرنا تھا، تا کہ دینی تعلیمی اداروں کو قومی تعلیمی دھارے میں لاتے ہوئے کسی تصادم کے بجائے مفاہمت کی راہ ہموار کی جاسکے۔

تاہم جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں اختیار کی گئی بعض پالیسیوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر اس بورڈ کی مزاحمت سامنے آئی۔ اس مخالفت نے محض نظری اختلاف کی صورت اختیار نہیں کی بلکہ عملی طور پر ایک منظم محاذ کی شکل اختیار کر گئی۔

چنانچہ 2005 میں ان پانچوں وفاقات نے مشترکہ طور پر ایک سیاسی و تنظیمی اتحاد ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ قائم کر لیا، جس کا مقصد ریاستی پالیسیوں کے مقابل ایک متحد موقف اختیارکرنا تھا۔اسی سیاسی کشمکش اور عدم اعتماد کی فضا کے باعث پاکستان مدرسہ ایجو کیشن بورڈ تقریباً چودہ برس تک وہ مؤثر کردار ادا نہ کر سکا جس کے لیے اس کا قیام عمل میں آیا تھا۔

مختلف ادوار میں آنے والی مذہبی و سیاسی حکومتوں کی وقتی مفاہمتی حکمت عملی، ریاستی اداروں کی عدم دلچسپی اور مسلسل پالیسی عدم تسلسل نے اس بورڈ کو جامع اور دور رس نتائج تک پہنچنے سے محروم رکھا۔ یوں ایک ایسا ادارہ، جو دینی مدارس اور ریاست کے درمیان پل بن سکتا تھا، طویل عرصے تک عملی اثر پذیری سے دور رہا۔

تاہم اس جمود کے باوجود ایک اہم پہلو قابل ذکر ہے۔ 2014 میں پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے باضابطہ اوپن میرٹ پر جو پہلے چیئرمین منتخب ہوئے تھے، انھوں نے مدرسہ بورڈ کو فعالیت کے لیے سنجیدہ اور عملی کوششیں کیں تھیں۔

انھوں نے پانچ وفاقات کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں قائم ان ہزاروں دینی مدارس (وفاق وحدت المدارس پنج پیر، وفاق اتحاد المدارس مردان، وفاق الجامعات منڈی بہاؤالدین، جمعیت اشاعت توحید والسنہ جنوبی پنجاب، تبلیغی جماعت، جامعہ نعیمیہ لاہور، جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی، جامعہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی و دیگر مدارس) کے ذمے داران سے براہ راست ملاقاتیں کیں اور باہمی رضامندی کے بعد، انھیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بورڈ کے اجلاس سے باقاعدہ منظوری بھی حاصل کی۔

تاہم ان کی کوششوں کے سامنے بھی وہی پرانی انتظامی، سیاسی اور پالیسی سطح کی رکاوٹیں حائل رہیں، اس کے باوجود وہ تمام کوششیں سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن گئیں، جو اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ اصلاح اور مفاہمت کی سنجیدہ سعی ایک مرحلے پر ضرور کی گئی تھی، اگرچہ وہ اپنے مطلوبہ اہداف تک نہ پہنچ سکی۔ (جاری ہے۔)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان مدرسہ کی جانب سے مدارس اور کے باعث

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ