دہشت گردی کے خاتمے کا دعویٰ کہاں کھڑا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعۃُ المبارک کے مقدس لمحوں میں مسجد و امام بارگاہ خدیجۃُ الکبریٰ کے اندر ہونے والا خودکش دھماکا محض ایک دہشت گردانہ واردات نہیں بلکہ ریاست ِ پاکستان، اس کے نظامِ تحفظ، اس کی داخلی سلامتی کی حکمت ِ عملی اور اس کے اجتماعی ضمیر پر ایک کھلا سوالیہ نشان ہے۔ سجدے میں جھکے ہوئے نمازیوں کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح اعلان ہے کہ دہشت گردی کی یہ لہر کسی مخصوص مسلک، علاقے یا طبقے تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس کا ہدف پورا معاشرہ اور ریاستی رِٹ ہے۔ 32 قیمتی جانوں کا ضیاع اور 172 سے زائد افراد کا زخمی ہونا ایک ایسا سانحہ ہے جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جمعہ کی نماز کی دوسری رکعت میں نمازی سجدے میں تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق پہلے فائرنگ کی گئی، پھر سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور آخرکار خودکش حملہ آور نے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ یہ حقیقت بذاتِ خود اس امر کی گواہ ہے کہ دہشت گردوں کے عزائم کتنے منظم، سفاک اور انسانیت سوز ہو چکے ہیں۔ دھماکے کی شدت نے نہ صرف مسجد و امام بارگاہ کو لہو میں نہلا دیا بلکہ آس پاس کے گھروں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ یہ سب کچھ وفاقی دارالحکومت میں ہوا، جہاں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کا دعویٰ ہمیشہ کیا جاتا رہا ہے۔ ریاستی اداروں نے فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کی، اسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کی گئیں، نوجوانوں نے بڑی تعداد میں خون کے عطیات دیے، اور قوم نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مشکل کی گھڑی میں وہ متحد ہو جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ہنگامی اقدامات، تعزیتی بیانات اور مذمتی قراردادیں کافی ہیں؟ کیا ہر سانحے کے بعد یہی ردِعمل ہمارا مقدر بن چکا ہے؟ حکومتی اور سیکورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت ہو چکی ہے، اس کا تعلق پشاور سے بتایا گیا ہے، عمر 32 سال ہے اور وہ متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے۔ وزیر مملکت داخلہ نے اس واقعے کو بی ایل اے اور بیرونی قوتوں، بالخصوص بھارت کی اسپانسرڈ دہشت گردی قرار دیا ہے، جبکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں پر بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بلاشبہ پاکستان طویل عرصے سے پراکسی وار کا شکار رہا ہے اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بیرونی ہاتھ اس آگ کو ہوا دے رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ داخلی سطح پر ہماری حکمت ِ عملی کہاں کمزور پڑ رہی ہے؟ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے بعد اب اسلام آباد بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ اگر دارالحکومت محفوظ نہیں تو عام شہری کہاں جائے؟ جمعۃُ المبارک جیسے مقدس دن، مسجد اور امام بارگاہ جیسے مقدس مقامات، اور سجدے کی حالت میں موجود نمازی یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کا مقصد محض جانیں لینا نہیں بلکہ معاشرے میں خوف، بے یقینی اور فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دینا ہے۔ سیاسی قیادت کی جانب سے بیانات کا تانتا بندھ گیا۔ صدرِ مملکت، وزیر ِ اعظم، وزرائے اعلیٰ، اپوزیشن رہنما، سب نے مذمت کی، تعزیت کی اور انصاف کی یقین دہانی کرائی۔ عالمی برادری نے بھی یک زبان ہو کر اس بزدلانہ حملے کی مذمت کی۔ ایران، سعودی عرب، چین، ترکی، یورپی یونین، امریکا اور دیگر ممالک کا ردِعمل اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اس جنگ میں تنہا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عالمی مذمت اور سفارتی بیانات زمینی حقائق بدل سکتے ہیں؟ مولانا فضل الرحمن نے اس واقعے کو انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی قرار دیا، جبکہ بلاول زرداری نے شفاف تحقیقات اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اسے حکومتی پالیسیوں کی ناکامی اور بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے قوم کو متحد ہو کر جدوجہد کا پیغام دیا۔ یہ تمام آرا اس بات کی غماز ہیں کہ دہشت گردی کے مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے تو موجود ہے، مگر عملی سطح پر یکسوئی اور مستقل پالیسی کا فقدان ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے دہشت گردی واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے قوم کو پیغام دیا ہے کہ متحد ہوکر ملک کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانے اور مسلط طبقات سے جان چھڑانے کی جدوجہد کرے۔ان کا کہنا تھا اور اصل بات ہی یہ ہے کہ ’’حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام نظر آرہی ہے۔ حکومت کا کام صرف مذمت کرنا نہیں بلکہ پالیسی بنا کر دہشت گردی کے اسباب اور ان واقعات کی مستقل روک تھام ہے جس میں وہ ناکام ہے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے بعد اسلام آباد میں بھی دھماکے انتہائی تشویشناک ہیں۔ ہم متاثرہ خاندانوں اور لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں اور دکھ و تکلیف کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں‘‘۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر واقعے کو وقتی بحران سمجھ کر نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دہشت گردی ایک مسلسل جنگ ہے جس کے لیے مستقل، جامع اور غیر مبہم حکمت ِ عملی درکار ہے۔ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اور سب سے بڑھ کر سیاسی استحکام، یہ سب وہ عناصر ہیں جن کے بغیر امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اگرچہ بعض ادوار میں ریاستی بیانیے کے تحت یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے، مگر واقعات کی طویل فہرست اس خوش فہمی کی نفی کرتی ہے۔ 2001 کے بعد پاکستان کو جس جنگ میں دھکیلا گیا، اس کے اثرات آج ایک ربع صدی گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہو سکے۔ لال مسجد آپریشن، سوات میں ریاستی رٹ کا چیلنج، پشاور کے آرمی پبلک اسکول کا سانحہ، کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر حملے، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، شاہ نورانی، سہراب گوٹھ، داتا دربار، عبداللہ شاہ غازی اور سیہون شریف جیسے مقدس مقامات پر خودکش دھماکے، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی نے وقت کے ساتھ اپنی شکلیں ضرور بدلی ہیں، مگر ختم نہیں ہوئی۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ نوجوان آخر کیوں دہشت گردی کے جال میں پھنس رہے ہیں؟ غربت، بے روزگاری، ناانصافی، طبقاتی تفریق اور ریاستی کمزوری ایسے عوامل ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر دشمن قوتیں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ جب تک ریاست اپنے شہریوں کو انصاف، روزگار اور تحفظ فراہم نہیں کرے گی، دہشت گردی کے خلاف جنگ ادھوری رہے گی۔ اسلام آباد کا یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ یہ وقت محض بیانات کا نہیں بلکہ فیصلہ کن اقدامات کا ہے۔ ریاست کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والوں کے لیے اس سرزمین پر کوئی جگہ نہیں۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں، مالی نیٹ ورکس اور نظریاتی سرپرستوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔ آخر میں، شہداء کے لواحقین کے دکھ کا مداوا صرف انصاف سے ہی ممکن ہے۔ اگر قاتلوں اور منصوبہ سازوں کو واقعی منطقی انجام تک پہنچایا گیا، اگر آئندہ ایسے واقعات کی مؤثر روک تھام کی گئی، اور اگر ریاست نے اپنی ذمے داری پوری کی، تب ہی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ورنہ خدشہ ہے کہ ہم ایک اور سانحے کے بعد پھر وہی تعزیتی بیانات، وہی وعدے اور وہی سوالات دہراتے رہیں گے، اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے کہ دہشت گردی اسلام ا باد نہیں بلکہ یہ ہے کہ کے ساتھ کے بعد اس بات ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز