ایپسٹین فائلز: پاکستان سے متعلق تفصیلی حوالہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایپسٹین فائلز میں پاکستان سے متعلق دو مرکزی شخصیات عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام درج ہیں۔ عمران خان کا ذکر 2013 اور 2018 کی ای میلز میں ملتا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا حوالہ 2010 کی ایک ای میل میں ہے۔ یہ تمام حوالہ جات ای میل خطوط کی شکل میں ہیں۔ عمران خان کا پہلا ذکر 2013 کی ایک ای میل میں ہے۔ یہ ای میل سابق اقوام متحدہ افسر نصرہ حسن نے نارویجن سفارت کار ترجے روڈ لارسن کو لکھی۔ ای میل میں عمران خان کو ’’لندن سوسائٹی لائن‘‘ یعنی ’’لندن کی محفلوں کا شیر‘‘ قرار دیا گیا۔ نصرہ حسن نے تجویز دی کہ پاکستان میں پولیو خاتمے کی مہم کے لیے عمران خان کا سوشل اور سیاسی اثرو رسوخ استعمال کیا جائے۔ ان کا موقف تھا کہ عمران خان کی نواز شریف کے مقابلے میں مغربی حلقوں میں زیادہ رسائی ہے۔ انہوں نے ای میل میں لکھا کہ عمران خان لندن کی اشرافیہ میں نمایاں شخصیت ہیں۔ یہ تجویز ہیلتھ ڈپلومیسی اور پولیو ویکسی نیشن پروگراموں کے تناظر میں تھی۔ اس کے علاوہ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سے جڑی ای میلز میں بھی عمران خان کا بالواسطہ ذکر ہے۔ ایک ای میل میں بورس نیکولک اور ایپسٹین کے درمیان بات ہوئی۔ بورس نیکولک گیٹس فاؤنڈیشن کے سابق مشیر تھے۔ ای میل میں پاکستانی میڈیا کی ایک خبر کا حوالہ دیا گیا۔ خبر میں عمران خان اور بل گیٹس کے درمیان ممکنہ فون کال کا ذکر تھا۔ یہ کال افغانستان کو پولیو مہم کے لیے راضی کرنے سے متعلق بتائی گئی۔ بل گیٹس اس خبر سے ناخوش تھے۔ ای میل میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایسی خبریں پاکستان میں پولیو ٹیموں پر حملوں کو بڑھا سکتی ہیں۔ ایک اور ای میل میں پاکستان اور نائیجیریا میں پولیو ٹیموں پر حملوں کا ذکر ہے۔ نامعلوم شخص نے ایپسٹین سے اس صورتحال کو بہتر بنانے کی تجویز مانگی۔
2018 کی ایک الگ ای میل میں جیفری ایپسٹین نے عمران خان کا ذکر کیا۔ یہ ای میل 31 جولائی 2018 کی ہے۔ ایپسٹین نے عمران خان کو “greater threat to peace” کہا۔ انہوں نے لکھا کہ عمران خان “incapable of truth” ہیں۔ ایپسٹین نے عمران خان کو “devout Islamist” قرار دیا۔ حالانکہ یہ اس کی غلط فہمی تھی۔ ای میل میں کہا کہ عمران خان “really bad news” ہیں۔ ایپسٹین نے تشویش ظاہر کی کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار عمران خان کی قیادت میں خطرناک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ عمران خان بڑے ہجوم mobilize کر سکتے ہیں۔ ایپسٹین نے عمران خان کو “cricket captain, not a chess player” کہا۔ یہ تبصرے سیاسی نوعیت کے ہیں۔ ای میل کا وصول کنندہ نامعلوم ہے۔ یہ unidentified correspondent کو بھیجی گئی۔ یہ ای میل امریکی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی۔
شاہ محمود قریشی کا ذکر 2010 کی ایک ای میل میں ہے۔ یہ ای میل جیفری ایپسٹین اور جے پی مورگن بینک کے سینئر عہدیدار جیس اسٹیلی (Jesse Staley) کے درمیان تھی۔ ای میل میں مختلف غیر ملکی شخصیات کی فہرست درج ہے۔ شاہ محمود قریشی کا نام “HE Makhdoom Shah Mahmood Qureshi” بطور پاکستانی وزیر خارجہ لکھا گیا۔ 2010 میں قریشی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر خارجہ تھے۔ ای میل میں ان کی ایپسٹین کے ساتھ ’’نجی ملاقاتوں‘‘ یا “private time” کا ذکر ہے۔ میڈیا رپورٹس میں لکھا کہ ای میل میں اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ نجی وقت دلوانے کا حوالہ دیا گیا۔ فہرست میں دیگر غیر ملکی شخصیات بھی شامل تھیں۔ یہ ای میل جے پی مورگن اور ایپسٹین کے کاروباری رابطوں کا حصہ تھی۔ امریکی محکمہ انصاف نے اسے فائلز میں شامل کیا۔
ایک رپورٹ میں جے پی مورگن کے عہدیدار نے ایپسٹین کو لکھا کہ کچھ خاص دوست آرہے ہیں جن میں شاہ محمود قریشی شامل ہیں۔ انہوں نے ’’پرائیویٹ ٹائم‘‘ گزارنے کا ذکر کیا۔ یہ تفصیل سوشل میڈیا اور میڈیا رپورٹس میں بیان ہوئی۔ ای میل کا مکمل متن عوامی طور پر دستیاب ہے۔ یہ فہرست high-level contacts کی تھی۔ ایپسٹین فائلز میں پاکستان سے متعلق دیگر حوالہ جات پولیو مہموں تک محدود ہیں۔ ای میلز میں پاکستان میں پولیو ٹیموں پر حملوں کا ذکر بار بار آیا۔ نائیجیریا کے ساتھ موازنہ کیا گیا۔ بل گیٹس کی ٹیموں اور ایپسٹین کے رابطوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ عمران خان کا سیاسی اور سماجی کردار 2013 میں نمایاں کیا گیا۔ 2018 میں ایپسٹین کے ذاتی خیالات درج ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا حوالہ 2010 کے سفارتی عہدے سے جڑا ہے۔ فائلز میں ان ناموں کے علاوہ پاکستان کا کوئی اور نمایاں ذکر نہیں۔ یہ تمام حوالہ جات ای میلز اور فہرستوں پر مبنی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایپسٹین نے عمران خان شاہ محمود قریشی کا ایک ای میل میں عمران خان کو عمران خان کا کہ عمران خان میں پاکستان ایپسٹین کے فائلز میں میں پولیو یہ ای میل کا حوالہ انہوں نے لکھا کہ کی ایک اور ای کا ذکر
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں