صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کیلئے 24 گھنٹے گیس بندش کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
بسیم افتخار: موسمِ سرما میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کی انتظامیہ نے صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
ترجمان سوئی سدرن کے مطابق صنعتی صارفین، بشمول کیپٹیو پاور پلانٹس، اور تمام سی این جی اسٹیشنز، بشمول آر ایل این جی پر چلنے والے اسٹیشنز، کو گیس کی فراہمی آج صبح 8 بجے سے معطل کر دی گئی ہے، جو پیر کی صبح 8 بجے تک بند رہے گی۔
بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
ترجمان نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ موسمِ سرما کے دوران گھریلو صارفین کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی گھریلو صارف کو گیس پریشر سے متعلق شکایت درپیش ہو تو وہ سوئی سدرن کی 24 گھنٹے فعال ہیلپ لائن 1199 پر رابطہ کر کے اپنی شکایت درج کرا سکتا ہے، جہاں مستعد عملہ فوری ازالہ یقینی بنائے گا۔
ترجمان کے مطابق معمول کے مطابق گھریلو اور کمرشل صارفین کو بھی گیس لوڈ مینجمنٹ کے تحت رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک گیس کی فراہمی معطل رہے گی۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کاروائیاں، 25 من مردہ مرغیاں، ساڑھے 3 من گائے و بکرے کا گوشت تلف
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گیس کی فراہمی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔