وزارتِ خارجہ میں اہم رد و بدل: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی نئی سفارتی صف بندی کردی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتِ خارجہ میں 24 اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں اقوامِ متحدہ، برطانیہ، افغانستان، یورپ اور دیگر اہم ممالک میں نئی تعیناتیاں شامل ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کو پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں مستقل نمائندہ (جنیوا) مقرر کر دیا گیا ہے۔ ان کی تقرری کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کے لیے نیا ہائی کمشنراس رد و بدل کے تحت کیپٹن (ر) عثمان ٹِیپو کو پاکستان کا نیا ہائی کمشنر برائے برطانیہ نامزد کیا گیا ہے۔ وہ ڈاکٹر فیصل کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جو ستمبر میں متوقع طور پر موجودہ سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس عہدے کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔
دیگر اہم تقرریاں اور تبادلےوزیراعظم کی منظوری سے بلال احمد کو جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے مشن سے سعودی عرب تعینات کر دیا گیا۔ احمد فاروق کو واپس اسلام آباد طلب کر لیا گیا جبکہ مدثر ٹِیپو کو ایران سے ازبکستان منتقل کیا گیا۔
افغانستان، یورپ اور ایشیا میں نئے سفیرڈاکٹر سید اسد علی گیلانی → پاکستان کے سفیر برائے افغانستان
عبیدالرحمٰن نظامانی → سفیر برائے سویڈن
سلمان (وزیراعظم آفس سے) → سفیر برائے جرمنی
ثانیہ افضل قاضی → سفیر برائے تھائی لینڈ
دیگر نمایاں سفارتی تعیناتیاںعاصم علی خان → سفیر برائے ناروے
سراج احمد خان → قونصل جنرل، لاس اینجلس
اسد شہزاد → سفیر برائے یوگنڈا
محمد فیصل ابڑو → قونصل جنرل، مونٹریال
میڈیا رپورٹس کے مطابق خلیل ہاشمی (سفیر برائے چین)، علی جاوید (سفیر برائے اٹلی)، جبکہ عامر آفتاب قریشی (سفیر برائے یونان) کو مدت ملازمت میں توسیع دیدی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سفیر برائے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔