ایران معاملہ: ٹرمپ اور نیتن یاہو کی اہم ملاقات اگلے ہفتے متوقع
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
ایران سے متعلق صورتحال پر مشاورت کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات اگلے ہفتے واشنگٹن میں متوقع ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نیتن یاہو بدھ کے روز امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچیں گے جہاں وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی رائے ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ خطے کی سلامتی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے یورینیم افزودگی روکنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ علاقائی سفارتکاروں کے مطابق مسقط میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی میزائل صلاحیتوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔