تحریکِ انصاف کا خیبر پختونخوا بھر میں احتجاج، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری اکرام کھٹانہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں مکمل ہڑتال ہے، تمام اضلاع میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پشاور میں ہشت نگری سے چوک یادگار تک پیدل مارچ کیا جائے گا، مارچ میں ضلعی قیادت، کارکنان اور تاجر برادری شرکت کرے گی، ا پیدل مارچ کی قیادت صوبائی صدر جنید اکبر، ممبران و ضلعی قائدین کریں گے۔
اکرام کھٹانہ نے کہا کہ مارچ کے شرکاء پیدل مارچ کرکے چوک یادگار پہنچیں گے، چوک یادگار میں پارٹی رہنما کارکنان سے خطاب کریں گے، صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی ضلعی سطح پر احتجاجی مظاہرے ہوں گے، تمام اضلاع میں ایم این ایز اور ایم پی ایز احتجاج کی قیادت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اضلاع میں
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔