تائیوان کو اسلحہ کی فروخت: ٹرمپ کا دورہ خطرے میں پڑسکتا ہے، چین کا امریکا کو دوٹوک پیغام
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
چین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین نے خبر دار کیا ہے کہ تائیوان کواسلحےکی فروخت امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چین کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا اپریل میں چین کا دورہ شیڈول ہے۔
واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان کچھ روز قبل ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا، امریکی صدر نے چینی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کو شاندار قرار دیا تھا۔
ملاقات کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پنگ سے تجارت، فوجی امور، تائیوان، روس اور یوکرین تنازع اور ایران کی موجودہ صورتحال پر بات ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین کی امریکا سے تیل، گیس، اضافی زرعی مصنوعات کی خریداری، طیاروں کے انجنوں کی ترسیل سمیت دیگر موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی۔
ادھر چینی میڈیا کے مطابق چینی صدر نے امریکی ہم منصب سے گفتگو کے دوران امریکا چین تعلقات میں تائیوان کے مسئلے کو اہم قرار دیا۔
چین کے صدر نے تائیوان کے ساتھ اسلحے کے معاہدے پر امریکا کو انتہائی احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل امریکی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔