کانگو‘ کان منہدم ہونے سے ہلاکتیں 300 سے زائد متجاوز
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
کنشاسا : افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں گزشتہ دنوںکولٹن کی ایک کان منہدم ہوگئی تھی، جس میں 200 سے زائد افراد کی ہلاکتوں نے حکمرانوں کو ہلاکر رکھ دیا تھا ۔ رپورٹ کے مطابق تازہ ترین اطلاعات میںہلاکتوں کی مزید اطلاعات آئی ہیں جو 300 سے زائد بتائی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ افسوسناک واقعہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی حصے میں واقع روبایا کے علاقے میں پیش آیا تھا، جہاں کولٹن کی ایک آرٹی سینل کان اچانک منہدم ہوگئی تھی۔
اعلیٰ حکام کے مطابق حادثے میں اب تک 300 سے زائد افراد کی جانیں جا چکی ہیں جبکہ اب بھی 100 کے قریب افراد زخمی حالت میں مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ یاد رہے کہ ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو کان کنی کے مقام پر موجود تھے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ حادثہ ایک ایسی غیر قانونی کان میں پیش آیا، جہاں کولٹن کے وافر ذخائر پائے جاتے ہیں، جہاں ایک اہم دھاتی معدنیات ہے، جو اسمارٹ فونز اور دیگر برقی آلات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔یہ بات بھی علم میں رہے کہ روبایا کا علاقہ عالمی سطح پر اسمارٹ فون انڈسٹری کے لیے خام مال فراہم کرنے والے اہم مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔