بنگلہ دیش عام انتخابات: فوج اور سیکیورٹی اداروں کی 14 روز کے لیے تعیناتی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات اور ملک گیر ریفرنڈم سے قبل امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اتوار سے فوج کو تمام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعینات کر دیا گیا ہے۔
الیکشن حکام کے مطابق یہ اقدام شفاف، پرامن اور منظم انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
فوج 7 دن قبل اور بعد تک تعینات رہے گیالیکشن کمشنر عبدالرحمان المسعود نے بتایا کہ فوج پہلے محدود کردار میں موجود تھی، تاہم اب اسے باضابطہ طور پر ووٹنگ سے 7 دن قبل اور 7 دن بعد تک تعینات کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو انتخابات کے لیے موزوں قرار دیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پولیس، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (BGB)، انصار اور ولیج ڈیفنس پارٹی (VDP)، کوسٹ گارڈ ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) اور دیگر فورسز کو ملک بھر میں تعینات کیا جائے گا۔ فوج سول پاور کی معاونت کے تحت فرائض انجام دے گی۔
9 لاکھ 70 ہزار سے زائد اہلکار متحرکحکام کے مطابق ملک بھر میں 9 لاکھ 70 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں 5 لاکھ 76 ہزار سے زائد انصار اور VDP اہلکار تقریباً 1 لاکھ 3 ہزار فوجی 1 لاکھ 87 ہزار پولیس اہلکار بحریہ، فضائیہ، RAB، BGB، کوسٹ گارڈ اور مقامی معاون فورسز شامل ہیں۔
پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی انتظاماتسیکیورٹی پلان کے تحت دیہی علاقوں میں ہر پولنگ اسٹیشن پر 15 سے 16 اہلکار حساس مقامات پر 17 سے 18 اہلکار شہری علاقوں میں عام مراکز پر 16 اہلکار جبکہ حساس اور ہائی رسک پولنگ اسٹیشنز پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔ دور دراز اور خصوصی علاقوں میں مزید سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
کوسٹل اور حساس علاقوں میں خصوصی فورسزکوسٹ گارڈ کو ساحلی علاقوں کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ RAB، BGB، مسلح پولیس بٹالینز اور انصار یونٹس اضلاع، تحصیلوں اور تھانوں کی سطح پر خدمات انجام دیں گی۔ تمام فورسز متعلقہ ریٹرننگ افسران کے ماتحت کام کریں گی۔
13ویں پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے پولنگ 12 فروری کو صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک ہوگی، جبکہ سیکیورٹی تعیناتی 8 سے 14 فروری تک برقرار رہے گی۔
حکام کے مطابق سیکیورٹی کی یہ غیر معمولی تعیناتی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں کسی بھی ممکنہ بدامنی کو روکنے اور قابلِ اعتماد انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: علاقوں میں تعینات کی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔