بنگلہ دیش بارڈر گارڈ کی جنوری میں بڑی کارروائیاں، 200 سے زائد افراد گرفتار، اسمگل شدہ سامان برآمد
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
بارڈر گارڈ بنگلہ دیش نے جنوری 2026 کے دوران ملک بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے غیر قانونی سرحدی آمد و رفت اور اسمگلنگ میں ملوث سیکڑوں افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق اس عرصے میں 114 بنگلہ دیشی شہریوں، 5 بھارتی شہریوں اور 159 میانمار کے باشندوں کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ تمام ملزمان کو قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں اپوزیشن کی ’سچائی اور شفا یابی‘ کمیٹی کا منصوبہ، خطے کے لیے اہم اشارہ
بی جی بی کے مطابق مختلف سرحدی علاقوں اور دیگر مقامات پر کارروائیوں کے دوران 1.
اس کے علاوہ لکڑی، چائے کی پتی، چھالیہ، کوئلہ، پتھر، موبائل فون اور ان کے لوازمات، بڑی مقدار میں خوراک اور زرعی اجناس بھی قبضے میں لی گئیں۔ حکام نے 973 مویشی، ایک پتھر کا مجسمہ اور درجنوں گاڑیاں بھی تحویل میں لیں۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ، کسٹمز انفوسمنٹ نے 15 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی اسمگل شدہ گاڑیاں ضبط کرلیں
بیان کے مطابق غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جن میں 14 پستول، ایک دستی بم، 13 میگزین، 185 گولیاں، مارٹر گولہ اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔ منشیات کے خلاف کارروائی میں 12 لاکھ سے زائد یابا گولیاں، ہیروئن، فینسیڈیل، غیر ملکی شراب اور دیگر نشہ آور اشیا ضبط کی گئیں۔
بی جی بی نے منشیات اور اسمگلنگ میں ملوث 172 مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے سرحدی سکیورٹی مزید سخت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ بنگلہ دیش منشیات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسمگلنگ بنگلہ دیش منشیات بنگلہ دیش
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔