کراچی: پولیس کا جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر دھاوا، ایم پی اے سمیت متعدد رہنما گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
کراچی:
پولیس نے جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔
جماعت اسلامی نے 8 فروری کے عام انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر عوامی پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا۔
پولیس کی جانب سے پریس کانفرنس کیلئے لگایا گیا ٹینٹ بھی اکھاڑ دیا گیا، جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے جیسے ہی پریس کانفرنس کا آغاز کیا تو پولیس نے انہیں روک دیا۔
ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، پولیس نے الیکشن کمیشن آفس کے باہر تمام دکانیں اور ہوٹل بھی بند کرادیے۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، امرائے اضلاع سفیان دلاور، مدثر حسین انصاری ودیگر ذمہ داران شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پریس کانفرنس
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔