عوام نے احتجاجی سیاست کو مسترد کردیا، اپوزیشن پارلیمانی فورمز کا رخ کرے،وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ احتجاجی سیاست ترک کر کے پارلیمانی فورمز کا رخ کریں، کیونکہ ملک ہڑتالوں اور پہیہ جام جیسی سرگرمیوں کا بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے پہیہ جام کی کال کو یکسر مسترد کر دیا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ اتوار کے روز بھی کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔
کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ ’’مائی کراچی‘‘ نمائش کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف اسٹالز کا دورہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں پہیہ جام کی اپیل کو پذیرائی نہیں ملی ۔
مراد علی شاہ نے نمائش میں غیر ملکی شراکت داری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کئی دوست ممالک نے بھی اپنی مصنوعات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں عمارتوں کے سروے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے تاکہ شہری منصوبہ بندی کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کے فور منصوبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا آغاز ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل ہوا تھا اور اس میں تاخیر کی ذمہ داری وہ کسی اور پر ڈالنے کے بجائے خود قبول کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے مین لائن کا کام خود کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم ایک عرصے تک منصوبے پر کام رکا رہا، جس سے اس کی رفتار متاثر ہوئی، انہوں نے بتایا کہ ایک صاحب نے 3، 4 سال کےلیے کے فور پر کام رکوا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔