جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا کہ ملک میں الیکشن کمیشن کٹھ پتلی بن چکا ہے اور انتخابات کے نتائج تیار کرنے کی بجائے باہر سے آنے والے نتائج پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی اس جعلی مینڈیٹ کی حامل حکومت میں حصہ نہیں لے گی اور اپوزیشن کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گی۔

یہ بھی پڑھیں:کم عمری کی شادی کا قانون غیر اسلامی ہے، 18 سال سے چھوٹے نوجوانوں کی شادیاں کرواؤں گا، مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے خطاب میں کہا کہ 2 سال قبل ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا گیا تھا، مگر آج اسی جعلی مینڈیٹ کے سہارے ملک پر حکمرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی اقتدار کی خواہش کے لیے نہیں بلکہ آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک حلقے کے نتائج بھی الیکشن کمیشن نے خود تیار نہیں کیے اور ایسا کٹھ پتلی کمیشن دنیا میں کہیں اور نہیں ملتا۔ مولانا فضل الرحمان نے نئے شامل ہونے والے کارکنان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام قافلۂ حریت کو مزید تقویت دے گا اور ملک میں سیاسی شعور و جمہوری بیداری کو فروغ دے گا۔

یہ بھی پڑھیں:سیاسی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے ملک میں قومی اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، مولانا فضل الرحمان

انہوں نے موجودہ حکومت کو عوامی طاقت کے بجائے جوڑ توڑ کے ذریعے وجود میں لائی گئی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی اکثریت عوام کے ووٹ سے آنی چاہیے، نہ کہ مصنوعی طریقے سے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی عوامی مفاد اور آئین کی بالادستی کے لیے کام کرے گی اور عوام کو درست رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ ملک میں شفافیت اور عدلیہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار میں آنا مقصد نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور جمہوری نظام کی مضبوطی ان کا اصل مقصد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکشن کمیشن جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان مولانا فضل الرحمان نے انہوں نے ملک میں نے والے کے لیے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا