حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے، بطور اپوزیشن اپنا کردار جاری رکھیں گے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا کہ ملک میں الیکشن کمیشن کٹھ پتلی بن چکا ہے اور انتخابات کے نتائج تیار کرنے کی بجائے باہر سے آنے والے نتائج پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی اس جعلی مینڈیٹ کی حامل حکومت میں حصہ نہیں لے گی اور اپوزیشن کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں:کم عمری کی شادی کا قانون غیر اسلامی ہے، 18 سال سے چھوٹے نوجوانوں کی شادیاں کرواؤں گا، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان نے خطاب میں کہا کہ 2 سال قبل ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا گیا تھا، مگر آج اسی جعلی مینڈیٹ کے سہارے ملک پر حکمرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی اقتدار کی خواہش کے لیے نہیں بلکہ آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک حلقے کے نتائج بھی الیکشن کمیشن نے خود تیار نہیں کیے اور ایسا کٹھ پتلی کمیشن دنیا میں کہیں اور نہیں ملتا۔ مولانا فضل الرحمان نے نئے شامل ہونے والے کارکنان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام قافلۂ حریت کو مزید تقویت دے گا اور ملک میں سیاسی شعور و جمہوری بیداری کو فروغ دے گا۔
یہ بھی پڑھیں:سیاسی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے ملک میں قومی اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، مولانا فضل الرحمان
انہوں نے موجودہ حکومت کو عوامی طاقت کے بجائے جوڑ توڑ کے ذریعے وجود میں لائی گئی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی اکثریت عوام کے ووٹ سے آنی چاہیے، نہ کہ مصنوعی طریقے سے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی عوامی مفاد اور آئین کی بالادستی کے لیے کام کرے گی اور عوام کو درست رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ ملک میں شفافیت اور عدلیہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار میں آنا مقصد نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور جمہوری نظام کی مضبوطی ان کا اصل مقصد ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن کمیشن جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان مولانا فضل الرحمان نے انہوں نے ملک میں نے والے کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔