بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال، کاروبار بند، متعدد کارکن گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
تحریک تحفظِ آئین پاکستان کی کال پر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، جس کے باعث کاروباری مراکز بند، سڑکیں سنسان اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر رہے۔ پولیس نے مختلف علاقوں میں درجنوں سیاسی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کوئٹہ، مستونگ، قلات، پشین، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، ژوب، ہرنائی، سبی اور دیگر اضلاع میں مکمل ہڑتال رہی۔ صوبے بھر میں تجارتی و کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، بازار اور دکانیں بند تھیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی۔ اس دوران تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔
کوئٹہ میں مرکزی بازار، بڑی مارکیٹیں، ہوٹلز اور دکانیں مکمل بند رہیں، تاہم بعض نواحی علاقوں میں جزوی ہڑتال دیکھی گئی۔ قومی شاہراہوں اور شہری سڑکوں پر ٹریفک شدید متاثر رہی اور کئی مقامات پر آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سڑکیں بند کرنے اور دکانیں زبردستی بند کرانے پر کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 70 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث شہر کے اہم چوراہوں، شاہراہوں اور بازاروں میں پولیس، لیویز اور دیگر سیکیورٹی فورسز تعینات رہیں۔
مرکزی انجمن تاجران بلوچستان، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں تاجر برادری اور عوام نے بھرپور تعاون کیا۔
ہڑتال کے باعث بلوچستان سے سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب جانے والی قومی شاہراہیں بھی متاثر رہیں۔ اپوزیشن اتحاد کے مطابق یہ احتجاج آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف ایک واضح پیغام ہے۔
شہریوں اور تاجر برادری کی یکجہتی نے ہڑتال کو مؤثر بنایا، جسے ملک بھر میں جاری احتجاجی تحریک کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔