کیا امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟تجزیاتی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور وقتاً فوقتاً ایسے حالات پیدا ہوتے رہے ہیں جن سے براہِ راست تصادم کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ، اور ایران کے جوہری پروگرام نے ایک بار پھر یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ کیا امریکہ واقعی ایران پر حملہ کر سکتا ہے یا نہیں۔
ایران کا جوہری پروگرام امریکی تشویش کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچ سکتا ہے، جسے خطے کے توازنِ طاقت کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرتا رہا ہے اور سفارتی دباؤ بڑھاتا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ لبنان، عراق، شام اور یمن میں ایسے گروہوں کی حمایت کرتا ہے جو امریکی اور اتحادی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں، جس سے کشیدگی مزید گہری ہو جاتی ہے۔
اس کے باوجود امریکہ کے لیے ایران پر براہِ راست حملہ ایک نہایت مشکل اور خطرناک فیصلہ ہوگا۔ ایران ایک کمزور ملک نہیں بلکہ ایک منظم ریاست ہے جس کے پاس میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون صلاحیت اور خطے میں مضبوط اتحادی موجود ہیں۔ کسی بھی حملے کی صورت میں ایران جوابی کارروائی کر سکتا ہے جس کا دائرہ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسرائیل، خلیجی ممالک اور امریکی فوجی اڈے بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں پورا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
امریکی داخلی سیاست بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں کے بعد امریکی عوام مزید عسکری مہم جوئی کے حق میں نظر نہیں آتے۔ ایک نئی جنگ نہ صرف انسانی اور فوجی نقصان کا باعث بنے گی بلکہ امریکی معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈالے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور عالمی معاشی عدم استحکام کا خطرہ بھی موجود ہوگا، جو امریکہ سمیت پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسی لیے موجودہ حالات میں یہ زیادہ امکان ہے کہ امریکہ براہِ راست جنگ کے بجائے دباؤ کی پالیسی جاری رکھے گا۔ اس میں محدود نوعیت کے فضائی یا سائبر حملے، سخت اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی اور اتحادی ممالک کے ذریعے بالواسطہ اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ کے بجائے ایسی ہی حکمتِ عملی اختیار کی جاتی رہی ہے، جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر مکمل جنگ سے گریز کیا گیا ہے۔
ایران بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ براہِ راست جنگ اس کے لیے بھی شدید نقصانات کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے وہ عموماً پراکسی حکمتِ عملی اپناتا ہے۔ ایران خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی حملے کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔ ساتھ ہی وہ چین اور روس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے عالمی سطح پر اپنے لیے سفارتی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ کا ایران پر مکمل اور براہِ راست حملہ فی الوقت کم امکان رکھتا ہے، تاہم محدود نوعیت کی کارروائی یا بالواسطہ تصادم کے امکانات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اصل کشمکش میدانِ جنگ کے بجائے سفارت کاری، پابندیوں، علاقائی اثر و رسوخ اور سیاسی دباؤ کے محاذ پر جاری رہے گی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ کے قریب ضرور دکھائی دیتے ہیں، مگر دونوں اس حد تک آگے بڑھنے سے فی الحال گریزاں ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اور ایران کے ایران پر جاتا ہے سکتا ہے کے لیے جنگ کے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔