کبیروالا، شیعہ تنظیموں کے زیراہتمام سانحہ اسلام آباد کے خلاف احتجاج، سیاسی و سماجی شخصیات بھی شریک
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
مقررین نے اپنے خطاب میں اسلام آباد سانحے کی پُرزور مذمت کی اور واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، رہنمائوں نے کہا کہ ملک میں چند شرپسند عناصر امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں حکومت اور سیکیورٹی ادارے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔ اسلام ٹائمز۔ سانحہ اسلام آباد کے خلاف کبیروالا کے چوک ٹائون ہال میں شیعہ تنظیموں کی جانب سے علامتی احتجاجی دھرنا دیا گیا، احتجاجی دھرنے میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علماء کونسل کے رہنمائوں نے خطاب کیا۔ احتجاج میں وکلائ، ڈاکٹرز، صحافی، سول سوسائٹی، اہلسنت علماء سمیت ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع علامہ مرید کاظم کاظمی، مبشر عباس خان بھٹہ، منظر عباس، ڈاکٹر شرافت بھٹہ، جماعت اسلامی کے رہنما حاجی ارشد سنگا، انجمن تاجران کے رہنمائوں نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں اسلام آباد سانحے کی پُرزور مذمت کی اور واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ملک میں چند شرپسند عناصر امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں حکومت اور سیکیورٹی ادارے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔