Islam Times:
2026-07-24@02:25:28 GMT

مغربی تہذیب ایپسٹین کی دلدل میں

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

اسلام ٹائمز: مغربی سیاست دان اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے بھیانک جرائم پر کیوں خاموش رہتے ہیں؟ یا بلا روک ٹوک مالی اور فوجی مدد فراہم کرتے رہتے ہیں؟ اس کا جواب ایپسٹین کے جزیرے کے بیڈ رومز میں ریکارڈ ہونے والی فوٹیجز میں مل سکتا ہے۔ ایپسٹین کے اپارٹمنٹس میں اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود براک کی موجودگی اور وہاں ان کے اکثر دورے ایک گہرے تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کچھ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین کی دولت کا بڑا حصہ ایسے نامعلوم چینلز کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا جو واشنگٹن اور تل ابیب میں طاقتور صیہونی لابیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مقدمے نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی صیہونیت اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے بچوں کی اسمگلنگ سے لے کر عالمی رہنماؤں کی اخلاقی بدعنوانی تک کسی بھی گھناؤنے طریقے سے دریغ نہیں کرتی۔ تحریر: مہدی سیف تبریزی
 
یہودی ارب پتی اور عالمی سطح پر لڑکیوں کے اسمگلر جفری ایپسٹین کا کیس، وفاقی عدالت میں زیر بحث ہزاروں مقدمات میں اب محض ایک سادہ مجرمانہ کیس نہیں رہا بلکہ یہ ایک تباہ کن زلزلہ بن چکا ہے جس نے مغرب کی سیاست اور دولت کے محلات کے ستون ہلا کر رکھ دیے ہیں اور وہ یکے بعد از دیگرے زمین بوس ہوتے جا رہے ہیں۔ ایپسٹین ایک ایسا شخص بے جو غربت سے بے پناہ دولت تک پہنچا۔ وہ درحقیقت جدید دور میں بھتہ خوری اور منظم بدعنوانی کے سب سے گندے نیٹ ورک کا بانی تھا۔ اس نے کیریبین میں "لٹل سینٹ جیمز" نامی ایک جزیرہ خریدا اور اسے بچوں کی معصومیت کی قربان گاہ اور "سیاہ سفارت کاری" کے مرکز میں تبدیل کر دیا۔ حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف نے اس کیس سے مربوط 30 لاکھ سے زائد دستاویزات، خفیہ فلم کے لاکھوں رولز اور ہزاروں تصاویر شائع کی ہیں۔
 
لندن میں سونامی، اسٹارمر کی حکومت ٹوٹنے کے قریب
اگرچہ برطانیہ نے ہمیشہ خود کو پارلیمانی جمہوریت کا گہوارہ اور گڈ گورننس میں اعلیٰ اخلاقی معیارات کا حامل قرار دیا ہے لیکن 2026ء کی نئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ بدعنوانی شاہی خاندان اور موجودہ حکومت کے مرکز تک جا پہنچی ہے۔ پرنس اینڈریو کا اسکینڈل اور ایپسٹین سے اس کے قریبی تعلقات اس برفانی تودے کی صرف ایک نوک تھی جو برسوں پہلے دیکھا گیا تھا۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تعلق محض چند یادگار تصاویر سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے محل، ایسی پارٹیوں کی میزبانی کرتے تھے جہاں کم عمر لڑکیوں کو "سفارتی تحائف" کے طور پر منتقل کیا جاتا تھا۔ ان انکشافات نے کیئر اسٹارمر کی حکومت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسٹارمرکو اب ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جس نے پوری لیبر پارٹی کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
 
امریکہ کرپشن کی لپیٹ میں، کلنٹن اور ٹرمپ کا منحوس اتحاد
بحر اوقیانوس کے اس پار منظرعام پر آنے والی دستاویزات نے امریکہ میں طاقت کے دو ستونوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سابق صدر بل کلنٹن، جن کا نام بار بار "لولیتا ایکسپریس" (ایپسٹین کا پرائیویٹ جیٹ طیارہ) کی فلائٹ لسٹ میں درج تھا، کو اب جزیرے پر ان کی موجودگی اور غیر قانونی اجتماعات اور حتی منحرف مذہبی رسومات میں شرکت کی تصدیق کرنے والی نئی شہادتوں کا سامنا ہے۔ ہمیشہ خود کو خواتین کے حقوق کی محافظ کے طور پر پیش کرنے والی ہیلری کلنٹن کو اب ایسی دستاویزات کا سامنا ہے جو ان جرائم کو چھپانے اور متاثرین کو رشوت دینے میں ان کے دفتر کے کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایپسٹین کے خفیہ لاکرز سے حاصل ہونے والی نئی تصاویر اور نوٹس کئی دہائیوں سے ایپسٹین سے اس کے قریبی تعلقات اور مشکوک معاملات کو ظاہر کرتے ہیں۔
 
خون اور معصومیت کی تجارت، جزیرے کے شوکیس میں لڑکیوں کی نیلامی
شاید اس کیس کا سب سے خوفناک اور غیر انسانی پہلو، بحران زدہ ممالک سے انسانوںوں کی تجارت اور نوجوان لڑکیوں کی اسمگلنگ پر مشتمل ہے۔ دستاویزی رپورٹس اور ایپسٹین کے کچھ ساتھیوں کے چونکا دینے والے اعترافات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نیٹ ورک نے گزشتہ چند برسوں میں ہیٹی اور ترکی میں آنے والے زلزلوں جیسے ناگوار حادثات سے پیدا ہونے والی افراتفری کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے بچوں کو نشانہ بنایا جو یتیم ہو گئے تھے یا اسپتالوں سے اغوا کیے گئے تھے۔ موصولہ مالیاتی دستاویزات کے مطابق، ان میں سے کچھ بچوں کو ناقابل یقین قیمتوں جیسے 200 ملین ڈالر کے عوض خرید کر جزیرے پر پہنچایا گیا تھا۔ ان بے سہارا بچوں کو شدید سیکورٹی والے ماحول میں قید رکھا جاتا تھا اور وہ سیاست دانوں کی ہوس رانی اور جنسی خواہشات کی بھینٹ چڑھتے رہتے تھے۔
 
موساد کا سایہ اور صیہونی "ہنی ٹریپ" پراجیکٹ
اس کیس کے حتمی تجزیے میں غاصب صیہونی رژیم اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی، موساد کے نمایاں اور مشکوک کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جفری ایپسٹین کے رابرٹ میکس ویل (ایپسٹین کا سسر) سے بہت قریبی تعلقات تھے، جو مغرب میں موساد کے ایک اہم ایجنٹ اور جاسوس کے طور پر جانا جاتا تھا۔ رابرٹ میکس ویل کی مشتبہ موت کے بعد ایپسٹین اور اس کی بیوی گیسلن نے عملی طور پر مغربی اشرافیہ کی معلومات اکٹھی کرنے کا کام جاری رکھا۔ بہت سے انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایپسٹین کا جزیرہ دراصل ایک بہت بڑا اور جدید ترین "ہنی ٹریپ" تھا جسے اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز نے ڈیزائن کیا تھا۔ مقصد سادہ لیکن خوفناک تھا: عالمی رہنماؤں کے غیر اخلاقی اعمال، عصمت دری اور شیطانی رسومات کی دستاویز اور فلم بندی کرنا تاکہ انہیں نازک لمحات میں سیاسی بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
 
مغربی سیاست دان اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے بھیانک جرائم پر کیوں خاموش رہتے ہیں؟ یا بلا روک ٹوک مالی اور فوجی مدد فراہم کرتے رہتے ہیں؟ اس کا جواب ایپسٹین کے جزیرے کے بیڈ رومز میں ریکارڈ ہونے والی فوٹیجز میں مل سکتا ہے۔ ایپسٹین کے اپارٹمنٹس میں اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود براک کی موجودگی اور وہاں ان کے اکثر دورے ایک گہرے تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کچھ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین کی دولت کا بڑا حصہ ایسے نامعلوم چینلز کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا جو واشنگٹن اور تل ابیب میں طاقتور صیہونی لابیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مقدمے نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی صیہونیت اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے بچوں کی اسمگلنگ سے لے کر عالمی رہنماؤں کی اخلاقی بدعنوانی تک کسی بھی گھناؤنے طریقے سے دریغ نہیں کرتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایپسٹین کے ایپسٹین کا ہوتا ہے کہ ہونے والی رہتے ہیں گیا تھا

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی