پارلیمانی روابط عالمی استحکام‘ طویل المدتی تعاون کی بنیاد ہیں،چیئرمین سینٹ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-08-17
اسلام آباد/ دبئی(آن لائن)چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا میں دوسری انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس کا اعلان پارلیمانی تعاون کی بڑھتی عالمی اہمیت کا ثبوت ہے۔یوسف رضا گیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ پارلیمانوں کے درمیان روابط عالمی استحکام اور طویل المدتی تعاون کی بنیاد ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان فعال پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے عالمی برادری میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں دبئی میں جمہوریہ مالدووا کے اعزازی قونصل برائے پاکستان، سید کاشف علی کے تقرر کے موقع پر ایک پروقار تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے سید کاشف علی کو ان کے تقرر پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر امن، مکالمے اور باہمی اعتماد کے فروغ میں پارلیمان کا کردار نہایت اہم اور ناگزیر ہے۔ پاکستان میں جمہوریہ مالدووا کے اعزازی قونصل خانے کا قیام دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور ادارہ جاتی تعلقات کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے، جو باہمی تعاون کو نئی وسعت دے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔