Jasarat News:
2026-07-24@02:49:28 GMT

GEN ZEE نوجوان کام آتے ہیں یا استعمال ہوتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260209-04-7
دنیا میں ہر پندرہ سے اٹھارہ برس میں ایک نئی نسل تیار ہوجاتی ہے، اسے مختلف نام دیے جاتے ہیں، آج کل یا کم وبیش دس بارہ سال سے جین y جین زی اور اب جین الفا کے نام زیادہ آنا شروع ہوئے ہیں، ہر دور کا الگ رجحان ہوتا ہے اب سے کوئی دس بیس برس قبل، صرف نوجوان کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی ہے، تحریک پاکستان، پاکستان میں مختلف سیاسی شخصیات اور پارٹیوں کی مہمات میں بھی نوجوان ہی سب سے آگے رہتے تھے، لیکن قیادت ہمیشہ تجربہ کار اور جہاں دیدہ لوگوں کے پاس رہی، اس سے قطع نظر کہ تحریکوں کے مقاصد کیا تھے اور وہ حاصل ہوئے یا نہیں یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ تمام ہی تحریکوں میں نوجوان ہی آگے آگے رہے۔ اگر تحریک ایجنڈا فطری اور قیادت ایجنٹ نہیں حقیقی تھی تو نوجوان کام آئے اور اگر معاملہ برعکس تھا تو نوجوان استعمال ہوئے۔ اب سے دس پندرہ سال قبل قاضی حسین احمد، مسلم لیگ کے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے بھی نوجوانوں کو راغب کیا، اسی کی دیکھا دیکھی عمران خان نے بھی نوجوان کے بجائے یوتھ کا لفظ استعمال کیا اور یوتھ کے لیڈر بن گئے، ان کے مخالف عمران خان کے پیروکاروں کو ’’یوتھیا‘‘ کہہ کر مذاق اُڑاتے ہیں، یا تضحیک بھی کرتے ہیں۔

اس موضوع پر تبصرے سے قبل ذرا اس حقیقت کا جائزہ لے لیں کہ یہ جین کا معاملہ یا جنریشنز تھیوری کہاں سے آئی ہے، یہ تھیوری ایک امریکی مصنف، ڈراما نگار، تھیٹر ڈائریکٹر اور لیکچرر ولیم اسٹراس اور اس کے معاون نیل ہوو نے مشترکہ طور پر پیش کی، اس معاملے میں کارل مینھم کے 1928 کے ایک مضمون کو اس تھیوری کی بنیاد بھی کہا جاتا ہے، تاہم زیادہ ٹھوس اور مکمل کام ولیم اسٹراس اور نیل ہوو نے کیا اس لیے انہیں ہی اس تھیوری کا بانی قرار دیا جاتا ہے، یہ جاننے کے بعد کہ تھیوری پیش کرنے والے امریکی تھے اور انہوں نے امریکی معاشرے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تھیوری پیش کی، اس تھیوری کے تضادات بھی تھیوری پیش کرنے والوں کے تضادات کا اظہار ہیں کیونکہ مصنف بیک وقت ڈراما، تھیٹر، لیکچر سب کچھ تھا تو اس میں اُتار چڑھائو، سنسنی وغیرہ بھی فطری چیز ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ چند دہائیوں بعد معاشرتی، سیاسی اور معاشی اقدار اور طریقے بدلنے کے ساتھ سیاست، معیشت اور معاشرت بھی بدل جاتی ہے اس لیے انہوں نے تقریباً بیس سال کا عرصہ ایک جنریشن کے لیے مقرر کیا جو کم و بیش ساری دنیا کے لیے ہے لیکن اس نظریے اور تھیوری کو ساری دنیا پر یکساں منطبق نہیں کیا جاسکتا۔ صرف ایک بات پر اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ ساری تھیوری اور اس کا نچوڑ ہر اٹھارہ بیس سال بعد کی نوجوان نسل ہے اور ساری دنیا میں اتنے ہی عرصے میں نئی نسل جوان ہو جاتی ہے، اب آپ اس کا نام اے بی سی والا رکھیں یا ایک دوتین والا نتیجہ وہی ہے، یعنی ’’نوجوان نسل‘‘۔ یہ پہلو کسی طور اوجھل نہیں ہوناچاہیے کہ پاکستان، ایران، ترکیے، بنگلا دیش، افغانستان، مصر اور ایسے مسلم ممالک جہاں اسلامی معاشرہ، اقدار اور مذہب پرعمل کیا جاتا ہے اور وہاں اسلامی تحریکیں بھی وجود رکھتی ہیں ان پر امریکی تھیوری کا من وعن اطلاق نہیں ہوسکتا۔ کچھ نہ کچھ فرق ہوجاتا ہے، کیونکہ

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

ترکیے اور ایران اور اب بنگلا دیش میں حکومتوں کی تبدیلی کے نتائج منصوبہ سازوں کے منصوبے کے عین مطابق نہیں آئے اس لیے کچھ ردوبدل اور کتربیونت کی کوشش بھی کی گئی۔ اب بنگلا دیش میں بھی سب کی نظر انتخابی نتائج پر ہے۔ ظاہر ہے منصوبہ سازوں نے بنگلا دیش میں شیخ حسینہ واجد کا تختہ جماعت اسلامی کو بہت زیادہ آگے لانے کے لیے تو نہیں الٹا ہوگا۔ لیکن اب اسے روکنے کے کھیل تو سامنے آچکے ہیں۔ جتنا ہمارا نوجوان اسلام سے قریب ہوگا اتنا ہی اسے استعمال کرنا مشکل ہوگا، ہاں وہ تحریک کے کام آسکتا ہے۔ بس اس میں کام لینے والوں کے خلوص اور حکمت کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ دنیا بھر میں ساری تبدیلیوں انقلابات اور اکھاڑ پچھاڑ کی منصوبہ بندی اور نقشہ گری بھی یہی یوتھ کرتی ہے، جو سرے سے غلط ہے، تحریک پاکستان، جرمنی کی تقسیم اور اتحاد، افغانستان میں روس کی آمد اور اس کو نکالنا، پھر امریکا کا آنا اور اس کو نکالنا، اور طالبان کا آنا جانا، ہر مہم میں نوجوان استعمال ہوئے یا کام آئے، یہ تھیوری پیش کرنے والے امریکی بھی مختلف النوع کام کرنے والے تھے اسی لیے ان ساری تحریکوں میں ڈراما، سنسنی خیزی اور اچانک موڑ سب ڈالے جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاستوں کے سفر میں ہر اسی سال بعد نسلوں میں ایک بڑی تبدیلی آتی ہے، اسے یہ لوگ نسلوں کا چوتھا موڑ کہتے ہیں، یعنی بیس بیس سال کی چوتھی نوجوان نسل، لیکن یہ ضروری نہیں کہ دنیا بھر میں ہر اسی برس بعد نسلوں کا چوتھا موڑ آجائے۔ بنگلا دیش میں تو چون برس بعد چوتھا موڑ آیا، یہ بھی مقامی حالات اور خرابیوں کی شدت کے ساتھ نوجوانوں کی بڑی تعداد کی موجودگی پر منحصر ہے، ابن خلدون کا ریاست کے بارے میں نظریہ تو 120 برس کا ہے انہوں نے ریاست کی تعمیر کے چالیس برس رکھے ہیں، استحکام کے چالیس، اور زوال کے چالیس برس رکھے ہیں، ان لوگوں نے اسی برس رکھ دیے۔

آج کل پاکستان میں جین زی انقلاب کا چرچا ہے، اس کے بارے میں ہماری رائے ہے کہ کوئی جین انقلاب نہیں آرہا، جو کچھ بھی ہوگا وہ منصوبہ سازوں کے منصوبے کا حصہ ہوگا، نوجوانوں کو جو دکھایا جاتا ہے وہ نہیں ملتا، یا وہ حاصل کرنے نہیں دیا جاتا، جیسے، 1969 میں ایوب خان کی آمریت کا خاتمہ جمہوریت کے نام پر کیا گیا، لیکن وہ پاکستان کو دولخت کرنے اور باقی ماندہ پاکستان کو ایک متفقہ آئین دینے کے بعد دم توڑ گئی اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ اٹھا، لیکن کیا اس کا مقصد یہی تھا، اس کے منصوبہ سازوں نے جو سوچا وہ سامنے بھی آگیا، نظام مصطفی کے مطالبے اور نعرے کو جنرل ضیاء الحق لے اڑے، نوے دن کے وعدے پر گیارہ سال حکمرانی کرگئے۔ 1977 کی تحریک نظام مصطفی کے بعد 1986 میں کنٹرولڈ جمہوریت سامنے آئی جو آج تک چل رہی ہے۔ اب اس کا ایک ایک پہلو منصوبہ سازوں کے مکمل کنٹرول میں ہے، صرف تحریک پاکستان میں نوجوان کام آئے، باقی ہر تحریک میں استعمال ہوئے۔ عمران خان کی یوتھ میں ابھی جان باقی ہے لیکن اس یوتھ کو جس مقصد کے لیے استعمال کرنا تھا وہ حاصل ہوگیا، اس یوتھ اور قوم کا تبدیلی کا خواب تو ہوا ہو گیا۔ اب پاکستان میں پھر جین زی انقلاب کی باتیں ہورہی ہیں، یہ اے بی، سی، یا جی ایچ کیو کچھ بھی ہوسکتا ہے نتائج کے اعتبار سے جین زی انقلاب نہیں ہوگا۔

زمینی حقائق یہ ہیں کہ جین زی کی بڑی تعداد عمران خان کی دیوانی ہے لیکن کوئی ٹھوس نظریہ نہیں ہے، ایک بہت بڑی تعداد اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے پاس ہے اور اس کے پاس نظریہ و مشن بھی ہے اور متحرک قیادت بھی، اس کے علاوہ پیپلز، پارٹی مسلم لیگ، دیگر پارٹیوں کے پاس بھی نوجوان ہیں لیکن منصوبہ سازوں نے لسانی بنیادوں پر، فرقہ وارانہ بنیادوں پر اور قوم پرستی کی بنیاد پر بھی نوجوانوں کو تقسیم کررکھا ہے، گویا پاکستان میں اس ملک کے قیام کے نظریے کے مطابق کسی ممکنہ انقلاب کی راہ کھوٹی کرنے کا مکمل انتظام ہے۔ اب مقابلہ نوجوانوں کو کام میں لانے اور استعمال کرنے والوں میں ہے، فی الحال استعمال کرنے والوں کا کنٹرول زیادہ مضبوط ہے، کسی حقیقی انقلاب کے لیے نظریے سے ہم آہنگ نوجوانوں کی بھاری تعداد اور مضبوط نظریاتی قیادت کی ضرورت ہے، اور نوجوانوں کی یہ تقسیم ختم کرکے دینی فکر عام اور راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔

مظفر اعجاز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش میں نوجوانوں کو پاکستان میں بھی نوجوان جاتا ہے ہے اور کے پاس اور اس کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف