Jasarat News:
2026-06-02@23:12:44 GMT

GEN ZEE نوجوان کام آتے ہیں یا استعمال ہوتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260209-04-7
دنیا میں ہر پندرہ سے اٹھارہ برس میں ایک نئی نسل تیار ہوجاتی ہے، اسے مختلف نام دیے جاتے ہیں، آج کل یا کم وبیش دس بارہ سال سے جین y جین زی اور اب جین الفا کے نام زیادہ آنا شروع ہوئے ہیں، ہر دور کا الگ رجحان ہوتا ہے اب سے کوئی دس بیس برس قبل، صرف نوجوان کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی ہے، تحریک پاکستان، پاکستان میں مختلف سیاسی شخصیات اور پارٹیوں کی مہمات میں بھی نوجوان ہی سب سے آگے رہتے تھے، لیکن قیادت ہمیشہ تجربہ کار اور جہاں دیدہ لوگوں کے پاس رہی، اس سے قطع نظر کہ تحریکوں کے مقاصد کیا تھے اور وہ حاصل ہوئے یا نہیں یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ تمام ہی تحریکوں میں نوجوان ہی آگے آگے رہے۔ اگر تحریک ایجنڈا فطری اور قیادت ایجنٹ نہیں حقیقی تھی تو نوجوان کام آئے اور اگر معاملہ برعکس تھا تو نوجوان استعمال ہوئے۔ اب سے دس پندرہ سال قبل قاضی حسین احمد، مسلم لیگ کے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے بھی نوجوانوں کو راغب کیا، اسی کی دیکھا دیکھی عمران خان نے بھی نوجوان کے بجائے یوتھ کا لفظ استعمال کیا اور یوتھ کے لیڈر بن گئے، ان کے مخالف عمران خان کے پیروکاروں کو ’’یوتھیا‘‘ کہہ کر مذاق اُڑاتے ہیں، یا تضحیک بھی کرتے ہیں۔

اس موضوع پر تبصرے سے قبل ذرا اس حقیقت کا جائزہ لے لیں کہ یہ جین کا معاملہ یا جنریشنز تھیوری کہاں سے آئی ہے، یہ تھیوری ایک امریکی مصنف، ڈراما نگار، تھیٹر ڈائریکٹر اور لیکچرر ولیم اسٹراس اور اس کے معاون نیل ہوو نے مشترکہ طور پر پیش کی، اس معاملے میں کارل مینھم کے 1928 کے ایک مضمون کو اس تھیوری کی بنیاد بھی کہا جاتا ہے، تاہم زیادہ ٹھوس اور مکمل کام ولیم اسٹراس اور نیل ہوو نے کیا اس لیے انہیں ہی اس تھیوری کا بانی قرار دیا جاتا ہے، یہ جاننے کے بعد کہ تھیوری پیش کرنے والے امریکی تھے اور انہوں نے امریکی معاشرے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تھیوری پیش کی، اس تھیوری کے تضادات بھی تھیوری پیش کرنے والوں کے تضادات کا اظہار ہیں کیونکہ مصنف بیک وقت ڈراما، تھیٹر، لیکچر سب کچھ تھا تو اس میں اُتار چڑھائو، سنسنی وغیرہ بھی فطری چیز ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ چند دہائیوں بعد معاشرتی، سیاسی اور معاشی اقدار اور طریقے بدلنے کے ساتھ سیاست، معیشت اور معاشرت بھی بدل جاتی ہے اس لیے انہوں نے تقریباً بیس سال کا عرصہ ایک جنریشن کے لیے مقرر کیا جو کم و بیش ساری دنیا کے لیے ہے لیکن اس نظریے اور تھیوری کو ساری دنیا پر یکساں منطبق نہیں کیا جاسکتا۔ صرف ایک بات پر اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ ساری تھیوری اور اس کا نچوڑ ہر اٹھارہ بیس سال بعد کی نوجوان نسل ہے اور ساری دنیا میں اتنے ہی عرصے میں نئی نسل جوان ہو جاتی ہے، اب آپ اس کا نام اے بی سی والا رکھیں یا ایک دوتین والا نتیجہ وہی ہے، یعنی ’’نوجوان نسل‘‘۔ یہ پہلو کسی طور اوجھل نہیں ہوناچاہیے کہ پاکستان، ایران، ترکیے، بنگلا دیش، افغانستان، مصر اور ایسے مسلم ممالک جہاں اسلامی معاشرہ، اقدار اور مذہب پرعمل کیا جاتا ہے اور وہاں اسلامی تحریکیں بھی وجود رکھتی ہیں ان پر امریکی تھیوری کا من وعن اطلاق نہیں ہوسکتا۔ کچھ نہ کچھ فرق ہوجاتا ہے، کیونکہ

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

ترکیے اور ایران اور اب بنگلا دیش میں حکومتوں کی تبدیلی کے نتائج منصوبہ سازوں کے منصوبے کے عین مطابق نہیں آئے اس لیے کچھ ردوبدل اور کتربیونت کی کوشش بھی کی گئی۔ اب بنگلا دیش میں بھی سب کی نظر انتخابی نتائج پر ہے۔ ظاہر ہے منصوبہ سازوں نے بنگلا دیش میں شیخ حسینہ واجد کا تختہ جماعت اسلامی کو بہت زیادہ آگے لانے کے لیے تو نہیں الٹا ہوگا۔ لیکن اب اسے روکنے کے کھیل تو سامنے آچکے ہیں۔ جتنا ہمارا نوجوان اسلام سے قریب ہوگا اتنا ہی اسے استعمال کرنا مشکل ہوگا، ہاں وہ تحریک کے کام آسکتا ہے۔ بس اس میں کام لینے والوں کے خلوص اور حکمت کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ دنیا بھر میں ساری تبدیلیوں انقلابات اور اکھاڑ پچھاڑ کی منصوبہ بندی اور نقشہ گری بھی یہی یوتھ کرتی ہے، جو سرے سے غلط ہے، تحریک پاکستان، جرمنی کی تقسیم اور اتحاد، افغانستان میں روس کی آمد اور اس کو نکالنا، پھر امریکا کا آنا اور اس کو نکالنا، اور طالبان کا آنا جانا، ہر مہم میں نوجوان استعمال ہوئے یا کام آئے، یہ تھیوری پیش کرنے والے امریکی بھی مختلف النوع کام کرنے والے تھے اسی لیے ان ساری تحریکوں میں ڈراما، سنسنی خیزی اور اچانک موڑ سب ڈالے جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاستوں کے سفر میں ہر اسی سال بعد نسلوں میں ایک بڑی تبدیلی آتی ہے، اسے یہ لوگ نسلوں کا چوتھا موڑ کہتے ہیں، یعنی بیس بیس سال کی چوتھی نوجوان نسل، لیکن یہ ضروری نہیں کہ دنیا بھر میں ہر اسی برس بعد نسلوں کا چوتھا موڑ آجائے۔ بنگلا دیش میں تو چون برس بعد چوتھا موڑ آیا، یہ بھی مقامی حالات اور خرابیوں کی شدت کے ساتھ نوجوانوں کی بڑی تعداد کی موجودگی پر منحصر ہے، ابن خلدون کا ریاست کے بارے میں نظریہ تو 120 برس کا ہے انہوں نے ریاست کی تعمیر کے چالیس برس رکھے ہیں، استحکام کے چالیس، اور زوال کے چالیس برس رکھے ہیں، ان لوگوں نے اسی برس رکھ دیے۔

آج کل پاکستان میں جین زی انقلاب کا چرچا ہے، اس کے بارے میں ہماری رائے ہے کہ کوئی جین انقلاب نہیں آرہا، جو کچھ بھی ہوگا وہ منصوبہ سازوں کے منصوبے کا حصہ ہوگا، نوجوانوں کو جو دکھایا جاتا ہے وہ نہیں ملتا، یا وہ حاصل کرنے نہیں دیا جاتا، جیسے، 1969 میں ایوب خان کی آمریت کا خاتمہ جمہوریت کے نام پر کیا گیا، لیکن وہ پاکستان کو دولخت کرنے اور باقی ماندہ پاکستان کو ایک متفقہ آئین دینے کے بعد دم توڑ گئی اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ اٹھا، لیکن کیا اس کا مقصد یہی تھا، اس کے منصوبہ سازوں نے جو سوچا وہ سامنے بھی آگیا، نظام مصطفی کے مطالبے اور نعرے کو جنرل ضیاء الحق لے اڑے، نوے دن کے وعدے پر گیارہ سال حکمرانی کرگئے۔ 1977 کی تحریک نظام مصطفی کے بعد 1986 میں کنٹرولڈ جمہوریت سامنے آئی جو آج تک چل رہی ہے۔ اب اس کا ایک ایک پہلو منصوبہ سازوں کے مکمل کنٹرول میں ہے، صرف تحریک پاکستان میں نوجوان کام آئے، باقی ہر تحریک میں استعمال ہوئے۔ عمران خان کی یوتھ میں ابھی جان باقی ہے لیکن اس یوتھ کو جس مقصد کے لیے استعمال کرنا تھا وہ حاصل ہوگیا، اس یوتھ اور قوم کا تبدیلی کا خواب تو ہوا ہو گیا۔ اب پاکستان میں پھر جین زی انقلاب کی باتیں ہورہی ہیں، یہ اے بی، سی، یا جی ایچ کیو کچھ بھی ہوسکتا ہے نتائج کے اعتبار سے جین زی انقلاب نہیں ہوگا۔

زمینی حقائق یہ ہیں کہ جین زی کی بڑی تعداد عمران خان کی دیوانی ہے لیکن کوئی ٹھوس نظریہ نہیں ہے، ایک بہت بڑی تعداد اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے پاس ہے اور اس کے پاس نظریہ و مشن بھی ہے اور متحرک قیادت بھی، اس کے علاوہ پیپلز، پارٹی مسلم لیگ، دیگر پارٹیوں کے پاس بھی نوجوان ہیں لیکن منصوبہ سازوں نے لسانی بنیادوں پر، فرقہ وارانہ بنیادوں پر اور قوم پرستی کی بنیاد پر بھی نوجوانوں کو تقسیم کررکھا ہے، گویا پاکستان میں اس ملک کے قیام کے نظریے کے مطابق کسی ممکنہ انقلاب کی راہ کھوٹی کرنے کا مکمل انتظام ہے۔ اب مقابلہ نوجوانوں کو کام میں لانے اور استعمال کرنے والوں میں ہے، فی الحال استعمال کرنے والوں کا کنٹرول زیادہ مضبوط ہے، کسی حقیقی انقلاب کے لیے نظریے سے ہم آہنگ نوجوانوں کی بھاری تعداد اور مضبوط نظریاتی قیادت کی ضرورت ہے، اور نوجوانوں کی یہ تقسیم ختم کرکے دینی فکر عام اور راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔

مظفر اعجاز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش میں نوجوانوں کو پاکستان میں بھی نوجوان جاتا ہے ہے اور کے پاس اور اس کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار